Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - طویل عرصہ میاں بیوی کی مباشرت نہ ہونے سے نکاح فاسد ہو جاتا ہے؟

طویل عرصہ میاں بیوی کی مباشرت نہ ہونے سے نکاح فاسد ہو جاتا ہے؟

موضوع: نکاح   |  طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: نزہت عاقل       مقام: کراچی

سوال نمبر 2556:
السلام علیکم میرے چند سوالات ہیں جو کہ درج ذیل ہیں : میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میرے خاوند نے مجھے تین سال سے میرے والدین کے گھر بٹھایا ہے ہوا ہے اور اس عرصے میں‌ ہم دونوں کے درمیان مباشرت قائم نہیں‌ ہوئی ہے، میں‌ نے کسی سے سنا ہے کہ اتنے عرصے اگر میاں اور بیوی میں مباشرت قائم نہ ہو تو نکاح‌ فاسد ہو جاتا ہے؟ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے میاں نے مجھے پہ طلاق کے لیے مقدمہ کیا ہوا ہے مگر دو سال ہو گئے ہیں میرے میاں مجھے طلاق نہیں‌ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تم مجھے سے طلاق طلب کرو تاکہ میں‌ حق مہر سے دستبردار ہو جاؤں۔ اس کے بارے میں‌ ذرا تفصیل فرما دیں؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر میں‌ اپنے میاں سے طلاق لے لوں اور میں‌ کسی اور سے شادی کر لوں تو کیا مجھے اپنا 4 سال کا بیٹا ان کو دینا پڑے گا؟ حالانکہ کہ انہوں‌ نے اپنے بیٹے کی پرورش پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں‌ کیا ہے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ میرے میاں نے میرا سامان جو میں‌ اپنے گھر سے لائی تھی وہ اپنے قبضے میں‌ لیا ہوا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر میں طلاق لیتی ہوں تو اس سامان سے بھی مجھے دستبردار ہونا پڑے گا؟ برائے مہربانی اس بارے میں‌ شرعی اور قانونی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ جب تک طلاق نہ دی جائے یا بذریعہ عدالت خلع یا تنسیخ نکاح نہ ہو جائے، نکاح قائم رہتا ہے، چاہے جتنا عرصہ مباشرت نہ کی جائے۔ لہذا آپ کا نکاح قائم ہے، اگر مذکورہ بالا میں سے کوئی عمل نہیں ہوا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر وہ آپ کے حقوق پورے نہیں کر رہا اور طلاق بھی نہیں دے رہا تو تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کریں تاکہ آپ کو حق مہر بھی پورا ملے اور آپ کی اس ظالم گھٹیا انسان سے جان بھی چھوٹ جائے۔ جتنا عرصہ سے آپ کو نان نفقہ نہیں دے رہا وہ بھی عدالت کے ذریعے آپ کو ملے گا۔ یاد رہے آپ نے بھول کر بھی خلع کا دعوی نہیں کرنا بلکہ تنسیخ نکاح کا دعوی کرنا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپ بچے کو سنبھالنے کی ذمہ داری لیں تو وہ تقریبا سات آٹھ سال تک آپ کے پاس ہی رہے گا، بچے کا اور آپ کا خرچہ اتنی دیر تک بچے کا باپ ہی دے گا اور اس کی پرورش سے لے کر آج تک کے تمام اخراجات اس کی ذمہ داری ہے وہی دے گا، اگر وہ نہیں دیتا ہے تو آپ بذریعہ عدالت لے سکتی ہیں۔ لیکن یاد رہے آپ دوسری جگہ شادی کرنے سے پہلے ان کے ساتھ طے کر لیں کہ یہ بچہ بھی میرے ساتھ رہے گا تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

چوتھی بات یہ ہے کہ آپ کو جہیز میں ملا ہوا تمام سامان اور سسرال کی طرف سے بھی گفٹ ملا ہوا سامان سب آپ کی ملکیت ہے، اس پر آپ ہی کا حق ہے وہ کسی صورت بھی آپ کو اس سے دستبردار نہیں کر سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-04-23


Your Comments