کیا باپ اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہے؟

سوال نمبر:2546
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اپنے اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کر سکتا ہے؟ جیسے ہم اخبارات میں اکثر دیکھتے ہیں کہ میں‌ اپنے فلاں بیٹے کو نافرمانی کی وجہ سے اپنی ساری جائیداد اور مال سے عاق کرتا ہوں۔۔۔ برائے مہربانی یہ بتائیں کہ کیا شریعت میں‌ اس کے لیے کوئی حکم ہے؟

  • سائل: مستقیم چوہدریمقام: ابو ظہبی، متحدہ عرب عمارات
  • تاریخ اشاعت: 23 اپریل 2013ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت  |  جدید فقہی مسائل

جواب:

اس عاق کرنے سے مراد صرف یہ معنی لیا جائے گا کہ باپ کی زندگی میں بیٹے نے جو لین دین کیا یا کوئی بھی اور کام کیا، اس کا وہ خود ہی ذمہ دار ہو گا، باپ نہیں ہو گا۔ لیکن اس عاق نامہ کی وجہ سے بیٹے کو جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جائیداد میں اس بیٹے کو بھی دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ہی حصہ ملے گا۔ لہذا عاق نامہ کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟