Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - سسر بہو کے زنا کی وجہ سے کیا پھر بھی ان کا رشتہ برقرار رہے گا؟

سسر بہو کے زنا کی وجہ سے کیا پھر بھی ان کا رشتہ برقرار رہے گا؟

موضوع: زنا و بدکاری   |  معاملات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ندیم یونس       مقام: اوڈنسے، ڈنمارک

سوال نمبر 2535:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ صورت مسئولہ یہ ہے کہ ساس کو شک تھا کہ اس کے خاوند یعنی سسر اور بہو کے نا جائز جنسی تعلقات ہیں۔ سسر اس عمل قبیح کا اقراری ہے۔ جب کہ بہو مسلسل اس الزام کو غلط قرار دیتی ہے اور اس عمل سے انکار کرتی ہے۔ خاوند شدید اضطراب میں ہے۔ شرعی راہنمائی یہ درکار ہے کہ ایسی صورت میں‌ وہ کیا کرے۔ بغیر ثبوت کے یقین کر لے حالانکہ اس کی بیوی اس جرم سے انکار کرتی ہے اور دوسری طرف اس کو یہ فکر لاحق ہے کہ اگر بالفرض یہ بات سچی ہے تو کیا اپنی بیوی سے اس کا رشتہ نکاح درست اور جائز ہے یا اس کے باپ سے جنسی تعلق کی وجہ سے وہ اس پر حرام ہو چکی ہے؟

جواب:

زنا کے ثبوت کے لیے چار عینی شاہدین یا زانی، زانیہ دونوں یا ایک کا اقرار کرنا یا حمل ٹھہر جانا ہوتا ہے، اس میں سے ایک ثبوت بھی مل جائے تو زنا ثابت ہو جاتا ہے۔ اگر سسر کے بہو کے ساتھ جنسی تعلقات ثابت ہو جائیں تو وہ اس کے بیٹے کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے، نکاح ٹوٹ جاتا ہے، دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ لہذا سسر اور بہو کے جنسی تعلقات ثابت ہونے کی صورت میں اس کا خاوند اس سے الگ ہو جائے وہ اس کے لیے حرام ہو جائے گی۔ اس لیے اس بات کی پہلے اچھی طرح تحقیق کر لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-04-23


Your Comments