Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - سارے سودی نظام میں‌ PLS کیسے جائز ہے؟

سارے سودی نظام میں‌ PLS کیسے جائز ہے؟

موضوع: سود   |  PLS اکاؤنٹ

سوال پوچھنے والے کا نام: وسیم احمد       مقام: دبئی، متحدہ عرب امارات

سوال نمبر 2466:
السلام علیکم آپ کا جواب دینے کا شکریہ لیکن ابھی تک میرا جواب ادھورا ہے کہ جب سارا بینکنگ سسٹم ہی حرام ہے تو پھر PLS حلال کیسے ہو جاتا ہے؟ جیسے آپ نے اپنے فتوی نمبر 748 میں‌ لکھا ہوا؟

جواب:

سارے نظام سے مراد یہ ہے کہ پہلے کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا۔ کچھ عرصہ پہلے PLS کا شعبہ شروع کیا گیا ہے، جو آج کل تقریبا تمام بینکوں میں PLS کے اکاؤنٹس کھل گئے ہیں۔ اس میں جو بینک شرعی اصولوں کے مطابق مشارکہ اور مضاربہ پر عمل کر رہا ہو اسے حرام نہیں کہہ سکتے ہیں، ہاں بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کے اندر سارا کچھ وہی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس سے ہمیں غرض نہیں ہے، جس طرح بازار سے گوشت حلال سمجھ کر لے رہے ہیں لیکن ہو وہ کتے کا یا مرے ہوئے جانور کا، اس کا گناہ ہمیں نہیں ہو گا اس دینے والے کو ہو گا۔ اسی طرح یہاں یہی سارا کچھ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ شعبہ نفع نقصان کی شراکت کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسی کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔ لہذا سارے سودی نظام میں اگر کوئی شعبہ غیر سودی ہو تو اسی سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ اس کی حوصلہ افزائی ہو اور اس کی ترقی ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-03-18


Your Comments