کیا شدید غصے میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:2382
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں‌ مفتیاں کرام اس مسئلہ شرعی کے بارے میں کے الطاف حسین ولد اللہ دتہ کا اپنی بیوی کلثوم مائی سے جھگڑا ہوا اور اپنی بیوی کو تھپڑ ما دیا اس پر الطاف کے والد نے الطاف کو مارنا شروع کر دیا اور پانچ سات تھپڑ ما دیئے اس پر الطاف اپنے کمرے میں گیا اور چھرا اٹھایا اور اپنے والد سے کہا مجھے قتل کر دو۔ میں‌ اپنی زندگی سے تنگ آ چکا ہوں تو اس کے والد نے جوتا اتارا اور بہت زیادہ مارا اس وقت الطاف شدید غصہ کی حالت میں تھا اور اپنی بیوی سے طلاق کے الفاظ ادا کیے۔ یہ تین دفعہ دہرائے اس کے کچھ دیر بعد الطاف کے چچا آئے اور اس نے پوچھا یہ تم نے کیا کیا؟ تو الطاف نے اسے غصے سے کہا کہ میں نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا۔ بڑی دیر بعد اسے ہوش آیا کہ میں‌ نے یہ کیا کیا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں‌ اس کی وضاحت فرمائیں۔

  • سائل: کامرانمقام: لیہ
  • تاریخ اشاعت: 01 جنوری 2013ء

زمرہ: معاملات  |  طلاق

جواب:

اگر واقعی مذکورہ صورت حال تھی تو ایسی صورت حال میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہذا آپ بطور میاں بیوی رہ سکتے ہیں۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں۔
کیا انتہائی غصہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟