Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - آدم علیہ السلام کی توبہ کیسے قبول ہوئی؟

آدم علیہ السلام کی توبہ کیسے قبول ہوئی؟

موضوع: ایمانیات  |  عصمت انبیاء علیہم السلام

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد سہیل       مقام: عمان، مسقط

سوال نمبر 2328:
السلام علیکم میں نے مندرجہ ذيل حدیث پڑھی ہے میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ صحیح ہے یا نہیں؟ "جب آدم علیہ السلام نے غلطی کا ارتکاب کیا تو کہنے لگے : اے میرے رب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے، تو اللہ تعالی نے فرمایا اے آدم علیہ السلام تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے جان لیا حالانکہ میں نے ابھی تک اسے پیدا بھی نہیں کیا؟ آدم علیہ السلام کہنے لگے اے رب اس لیے کہ جب تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے بنا کر روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا تو مجھے علم ہو گيا کہ تو اپنے نام کے ساتھ اس کا نام ہی لگاتا ہے جو تیری مخلوق میں سے تجھے سب سے زيادہ محبوب ہو، تو اللہ تعالی نے فرمایا اے آدم تو سچ کہہ رہا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، مجھے اس کے واسطے سے پکارو تو میں تجھے معاف کرتا ہوں اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تجھے بھی پیدا نہ کرتا"۔

جواب:

آپ نے آدم علیہ السلام کی توبہ کے بارے میں جو حدیث مبارکہ پوچھی ہے یہ حدیث صحیح ہے، اس کو مختلف راویوں نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ نے اس حدیث کو ’’صحیح الاسناد‘‘ کہا ہے۔

حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2: 672، رقم: 4228، دارالکتب العلمية بيروت، سن اشاعت 1411ه.1990ء

لہذا یہ حدیث صحیح ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-01-01


Your Comments