Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - DSP سسٹم میں رقم انویسٹ کرنا شرعا کیسا ہے؟

DSP سسٹم میں رقم انویسٹ کرنا شرعا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد یاسر عرفات       مقام: اسلام آباد ، پاکستان

سوال نمبر 2301:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں پاکستان ایئر فورس میں ملازمت کر رہا ہوں، ہمیں پارٹ ٹائم جاب کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کیا ہم ایئر فورس کے ملازم اپنی ضروریات زندگی سے رقم بچا کر ایئر فورس کے سسٹم ڈی ایس پی (DSP) میں انویسٹ کر سکتے ہیں، اس سے ہونے والی آمدن سود تو نہیں ہو گی؟ جب کہ ایئر فورس یہ رقم باقاعدہ کاروبار میں‌ لگاتی ہے اور ہر سال حاصل ہونے والے منافع کے اعتبار سے اس رقم کو تقسیم کیا جاتا ہے۔

جواب:

اگر تو ڈی ایس پی سسٹم کے تحت رقم لوگوں سے لے کر مضاربہ کے اصولوں کے مطابق کاروبار میں لگائی جاتی ہے اور پھر نفع و نقصان کی شراکت کے ساتھ وہ واپس لوٹائی جاتی ہے، یعنی جتنا نفع زیادہ ہو آپ کو بھی زیادہ ملے اور جتنا نفع کم ہو اتنا آپ کو بھی کم ملے، متعین نہ ہو تو اس صورت میں جائز ہو گا۔ اگر متعین ہو گا تو سود ہو گا، لہذا ناجائز ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-11-21


Your Comments