کیا میلاد النبی ﷺ منانا بدعت ہے؟

سوال نمبر:2227
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ کیا میلاد منانا بدعت ہے؟

  • سائل: سرفرازمقام: جھڈو، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 09 اکتوبر 2012ء

زمرہ: میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم

جواب:

حضور تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روحِ اِیمان ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے رشتہِ محبت اُستوار کیے بغیر نہ تو لذتِ اِیمان نصیب ہوسکتی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ سے تعلقِ عبودیت قائم ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خالقِ کائنات تک پہنچنے کا واحد اور لازمی واسطہ ہیں، لہٰذا سینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُلفت و رحمت کے چراغ فروزاں کیے بغیر جادہِ مستقیم پر گامزن نہیں ہوا جا سکتا۔

یہ ایک اَلمیہ ہے کہ بعض لوگ ظاہر بینی سے کام لیتے ہوئے چھوٹی چھوٹی باتوں کو کفر و ایمان کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور دین کی اَصل روح اور کار فرما حکمت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ظاہر پرست علماء محافلِ میلاد اور جشنِ میلاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صرف اِس لیے اِسے ناجائز قرار دیتے ہیں کہ اِس قسم کی محافل اور جشن کی تقاریب اَوائلِ اسلام میں منعقد نہیں ہوئیں۔ حالانکہ لغت کی رُو سے نئے اُمورِ خیر کو بدعت کہنا صحیح ہے لیکن صرف بدعت کہہ کر اِنہیں ہدفِ تنقید بنانا اور ناپسندیدہ قرار دینا محض تنگ نظری اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ ہر دور میں ہر چیز کی ہیئت و صورت حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ اس میں کئی جدتیں اور عصری تقاضے شامل ہوتے رہتے ہیں مگران کی ہیئت اَصلیہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودہ صورت اپنی اَصل کے اِعتبار سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ جس طرح ہم محافلِ میلاد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نعت کا اہتمام کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات بیان کرتے اور مختلف انداز میں سیرتِ طیبہ کا ذکر کرتے ہیں، جو فی الواقعہ ہمارے جشنِ میلاد منانے کا مقصد ہے، اِسی طرح کی محفلیں جن میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات کا ذکر ہوتا تھا، عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی منعقد ہوتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محفل میں تشریف فرما ہوتے تھے حتی کہ اپنی محفلِ نعت خود منعقد کرواتے تھے۔ اس سے یہ اَمر پایہِ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانا بدعتِ ممنوعہ نہیں بلکہ ایک مباح، مشروع اور قابلِ تحسین اور عملِ خیر ہے۔

جواب کی تفصیلات اور دلائل جاننے کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تصنیف ’’کیا میلاد النبی منانا بدعت ہے؟‘‘ کا مطالعہ کیجیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟