Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کسی عورت سے جسمانی تعلق کے بعد کیا اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

کسی عورت سے جسمانی تعلق کے بعد کیا اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

موضوع: ایمانیات  |  محرمات نکاح

سوال پوچھنے والے کا نام: ریحان       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2181:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی عورت کے ساتھ بغیر نکاح کہ جسمانی تعلق رہا ہو تو کیا وہی شخص اسی عورت کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

جواب:

جو شخص کسی عورت سے بدکاری کرے، اس پر اس عورت کے اصول وفروع یعنی ماں بیٹی، نواسی وغیرہ حرام ہو جاتے ہیں۔ لہذا اس بدکار عورت کے متعلق اگر یہ سچ ہے کہ مذکورہ شخص کے ناجائز تعلقات ہیں تو یقینا اس عورت کے اصول وفروع یعنی ماں، نانی اور بیٹی وغیرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس عورت پر حرام ہو چکے۔

من مس امراة بشهوة حرمت عليه امها وابنتها

  1. هدايه، 2 : 277

  2. رد المختار، للشامی، 3 : 32

  3. عالمگيری، 1 : 274

جس آدمی کو کسی عورت نے شہوت کے ساتھ ہاتھ (بھی) لگا لیا، اس پر اس عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو گئی۔

اندریں حالات اس عورت کی بیٹی کا اس زانی سے نکاح ہرگز جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-10-01


Your Comments