Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا پرائز بانڈ میں نکلنے والی انعامی رقم جائز ہے؟

کیا پرائز بانڈ میں نکلنے والی انعامی رقم جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  پرا ئز بانڈ

سوال پوچھنے والے کا نام: فیصل ملک       مقام: پاکستان، اسلام آباد

سوال نمبر 2179:
السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اپنے پیسوں کو پرائز بانڈ میں‌ تبدیل کرنا اور پرائز بانڈ ڈرا میں نکلنے والے انعام کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ کیا یہ ڈرا والے پیسے حلال ہوں گے؟ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

بعض علماء کرام نے پرائز بانڈ کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن ہمارے نزدیک پرائز بانڈ خریدنا جائز ہے کیونکہ اس میں ناجائز ہونے کا کوئی جواز نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح ان پر انعام نکل آئے تو وہ بھی لینا جائز ہے۔ ناجائز ہونے کے دو اسباب ہو سکتے ہیں جو ان میں نہیں پائے جاتے۔

  1. سود
  2. جوا

پرائز بانڈ میں سود نہیں پایا جاتا کیونکہ " سود قرض پر متعین اضافہ بطور شرط ہوتا ہے۔ جبکہ 200، 500، 1000 روپے والے بانڈ پر لاکھوں روپے کا انعام نکل آنا یہ شرح سود دینا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس کے ناجائز ہونے کا دوسرا سبب جوا ہوتا ہے وہ بھی یہاں نہیں پایا جاتا کیونکہ جوئے میں ساری رقم ڈوب جاتی ہے یا پھر کئی گنا زیادہ آ جاتی ہے۔ یہاں انعام نکلنے یا نہ نکلنے، دونوں صورتوں میں اصل زر محفوظ رہتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا ناجائز ہونے کے جب دونوں امکان براہ راست موجود نہیں ہیں تو پھر پرائز بانڈز کا لین دین ناجائز ہونیکی وجہ نہ ہوئی لہذا یہ جائز ہے۔

پرائز بونڈ لینا حرام ہے یا حلال؟
مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-09-28


Your Comments