Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟

قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟

موضوع: معاملات  |  قسم کا کفارہ

سوال پوچھنے والے کا نام: راجہ محمد ساجد خان       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 2143:
السلام علیکم ایک انسان اللہ کی قسم کھا کہ عہد کرے کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مگر وہ پھر وہی کام کر گزرے تو اس صورت میں قسم کا کفارہ کیا ہو گا؟

جواب:

لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.

(المائدة، 5 : 89)

 اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کر لو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ۔

مذکورہ بالا آیت میں قسم کا کفارہ بیان کیا گیا ہے، آپ کو جو چیزیں بتائی گئی ہیں ان میں سے جو بھی آسان لگی ہو وہ ادا کریں تو آپ کی قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اس میں چار چیزیں بیان ہوئی ہیں، چار میں سے ایک جو زیادہ آسان لگے وہ ادا کریں تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔

  1. دس مسکینوں / فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا۔
  2. دس مسکینوں / فقیروں کو کپڑے دینا۔
  3. غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا۔
  4. تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2012-09-28


Your Comments