Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اسلام میں‌ لونڈیوں سے بغیر نکاح کے جماع کی اجازت تھی؟

کیا اسلام میں‌ لونڈیوں سے بغیر نکاح کے جماع کی اجازت تھی؟

موضوع: نکاح   |  مال غنیمت کے احکام

سوال پوچھنے والے کا نام: سمیر سید شاہ       مقام: کراچی، پاکستان

سوال نمبر 2008:
السلام علیکم کیا اسلام کے اوائل دور میں‌ لونڈیوں سے بغیر شادی کے جماع کی اجازت تھی؟

جواب:

جس خدا نے بیوی سے لذت اندوز ہونے کو جائز قرار دیا ہے اسی نے لونڈی سے بھی لذت اندوز ہونے کو جائز قرار دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر یہ مضمون بیان ہوا ہے مثلاً

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ

النساء، 4 : 3

’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے لیے پسندیدہ اور حلال ہوں، دو دو اور تین تین اور چار چار (مگر یہ اجازت بشرطِ عدل ہے) پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم (زائد بیویوں میں) عدل نہیں کر سکو گے تو صرف ایک ہی عورت سے (نکاح کرو) یا وہ کنیزیں جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں آئی ہوں۔‘‘

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّامَلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ مِّنْ فَتَیٰـتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ

النساء، 4 : 25

’’اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کر لے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں۔‘‘

ہاں یہاں لونڈی (باندی) کا معنی اور اس سے آقا کے لذت اندوز ہونے کی شرائط ضرور سمجھ لیں :

لونڈی، غلام اسلام کے دور اول میں یا تو وہ لوگ تھے جن کو صدیوں سے معاشرے کے غالب طبقے نے دبا رکھا تھا اور ان کی باقاعدہ تجارت ہوتی تھی اور منڈی میں قیمت لگتی تھی۔ اس غلامی کی بس اتنی سی قانونی پوزیشن تھی کہ وہ دنیا میں کسی چیز کے مالک نہ تھے اور جب سے انہوں نے ہوش سنبھالا اپنا بکنا بکانا دیکھا۔ نہ کوئی گھر، نہ وطن، نہ ان کی سوچ، نہ رائے، نہ ارادہ و اختیار، اس غلامی کو اسلام نے مختلف صورتوں سے کفارات و صدقات کی شکل میں ختم کیا اور کسی آزاد کو غلام بنانا گناہ کبیرہ قرار دیا۔ گویا آئندہ کے لئے غلامی کا مستقل طور پر قلع قمع کر دیا، لونڈی غلام وہ لوگ تھے جن سے مسلمانوں نے جہاد کیا۔ وہ جنگی قیدی بنے ازاں بعد نہ تو تبادلہ اسیراں کی صورت پیدا ہوئی کیونکہ مسلمان کافروں کے پاس قیدی بنے ہی نہ تھے تبادلہ کس سے کرتے؟ قرآن کا حکم تھا :

فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً

محمد، 47 : 4

’’پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلا معاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِ رہائی) لے کر (آزاد کر دو)۔‘‘

مگر کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے جنگی قیدی فدیہ نہ دیں۔ باہم احسان کر کے چھوڑنا خلاف مصلحت سمجھیں، کہ وہی لوگ آزاد ہو کر ہمارے لئے خطرہ بن جائیں گے یا وہ اپنے دارالحرب میں جانے کے لئے آمادہ ہی نہیں اب ہم نے ان کو قتل تو کرنا نہیں، کہ امان دے چکے ہیں۔ اب ان کو جان و مال، عزت اور مذہب کا تحفظ دینا ہے۔ فوری طور پر ان کو سر چھپانے کے لئے مکان، پہننے کے لئے لباس، کھانے کے لئے راشن، علاج معالجہ کے لئے دواء اور دیگر ضروریات کا بندوبست کرنا ہے۔ پس اس کا علاج اس کے سوا ممکن نہیں کہ ان کو اپنا لونڈی غلام بنا لیا جائے اور اس حیثیت سے ان کو اپنے گھروں میں پناہ دے دی جائے۔ ان کے جملہ اخراجات اپنے ذمہ لے لئے جائیں۔ جو شادی شدہ جوڑے ہیں ان کے نکاح برقرار رہیں گے۔ ان سے ہم صرف نوکروں کی طرح کام لے سکتے ہیں جو بیوہ یا کنواری بالغ لڑکیاں یا عورتیں ہیں ان سے ہر وہ شخص جس کے حصے میں وہ آئیں، متمتع ہو سکتا ہے اور چاہے تو مناسب موقع پر ان کو آزاد کر کے اجر عظیم کا حقدار بن جائے۔ دونوں صورتوں میں اصل مقصود ان کا تحفظ ہے اور ان کو دربدر کی ٹھوکروں، فقر و فاقہ اور دیگر پریشانیوں سے آزاد کرنا ہے۔ ان غلاموں کے بارے میں ارشاد رسالتمآب ہے۔ معرور بن سوید کہتے ہیں میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے بھی جبہ پہن رکھا تھا اور ان کے غلام نے بھی ویسا ہی حلہ پہن رکھا تھا۔ ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا (کہ آقا و غلام میں یکساں لباس کی وجہ؟) فرمانے لگے : میں نے ایک شخص کو گالی دی، اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کر دی۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اعیرتہ، بامہ تو نے اسے ماں کا عار دلایا؟ پھر فرمایا :

ان اخوانکم خولکم جعلهم اﷲ تحت أيديکم فمن کان اخوه تحت يده فليطعمه مما ياکل وليلبسه مما يلبس ولا تکلفوهم ما يغلبهم فان کلفتموهم ما يغلبهم فاعينوهم

صحيح بخاری، 1 : 346

’’بیشک تمہارے بھائی، تمہارے خدمتگار ہیں جن کو اﷲ نے تمہارا زیردست کر دیا، سو جس کا بھائی، اس کے زیردست (ماتحت) ہو تو اس کو وہی کھانا کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی لباس پہنائے جیسے خود پہنتا ہے اور ان کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف نہ دو پھر اگر ان کو ان کی طاقت سے زیادہ کی تکلیف دو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔‘‘

یہ ہیں غلاموں کے وہ مختصر حقوق جو اسلام نے دیئے اور جن سے آج نام نہاد، آزاد متمدن دنیا نے، آزاد شہریوں کو بھی محروم کر رکھا ہے۔ اس ظالمانہ طبقاتی دور کے دانشور اور حکمران مسئلہ غلامی کو لے کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں مگر کبھی سمجھنے کی تکلیف نہیں کرتے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بدر، احد، حنین، فتح مکہ اور دوسرے معرکوں میں کتنے لوگوں کو لونڈی غلام بنایا؟ اسلام نے غلامی کو رواج نہیں دیا بلکہ مختلف حکیمانہ کوششوں سے غلامی کو ختم فرمایا۔ آج دنیا میں غلامی کے خلاف جو کامیاب تحریکیں جاری ہیں اور جن کے نتیجے میں دنیا کے اکثر ممالک آزاد ہو چکے ہیں، یہ اسلام ہی کا فیضان ہے۔

ہر شخص ہر حالت میں چار چھوڑ ایک عورت سے بھی نکاح نہیں کر سکتا۔ ایک نکاح کے لئے جسمانی اور مالی استطاعت لازمی شرط ہے اگر کسی کی جسمانی اور مالی استطاعت ہے اس کو ضرورت بھی ہے اور ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ منصفانہ سلوک بھی کر سکتا ہے تو پھر ایک سے زائد نکاح کر سکتا ہے۔ یہ اجازت ہر شخص کے لئے اور ہر حال میں قطعاً نہیں۔ مخصوص حالات میں، مخصوص حد تک اور مخصوص لوگوں کے لئے ہے۔

تعدد ازواج کو بہانہ بنا کر جو لوگ اسلام کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں وہ خود جس مغربی معاشرے کو مثالی قرار دیتے ہیں وہاں بھی جو کچھ پابندی ہے نکاح پر ہے اگر کوئی ’’مہذب‘‘ شہری متعدد داشتائیں رکھ لے تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا اس کا مطلب یہ ہے کہ پابندی صرف حلال پر حرام کی کھلی چھٹی ہے۔

غلامی ننگِ انسانیت جرم

انسانی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ طاقت کے نشہ میں چور انسانوں نے اکثر خوف خدا سے عاری ہو کر دوسروں کے حقوق پامال کئے ہیں، دوسروں پر عزت، رزق اور عظمت کے تمام دروازے بند کر کے ہر چیز پر اپنا حق جتایا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل نے قربانی دی۔ ایک قربانی اس کے خلوص کی وجہ سے قبول اور دوسری یعنی قابیل کی عدم خلوص کی بناء پر مردود ہو گئی۔ قابیل بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ہابیل کو دھمکیاں دینے لگا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ اس نے کہا تیری مرضی! یہ ظلم ہے اگر تو کرے گا تو میں بہرحال تیری طرف دست درازی نہیں کروں گا پھر قابیل نے بلا کسی کسی جرم و خطاء کے ہابیل کو قتل کر دیا۔

المائدہ، 5 : 27

وہ بعد میں اس ظلم پر نادم ہوا مگر ظالم و قاتل ہونے کے بعد ندامت فضول تھی۔ ہم نے قرآن سے یہ مثال اس لئے دی ہے کہ انسان کے ابتدائی دور سے ہی ظالم و مظلوم کے دو طبقے ظہور پذیر ہو گئے تھے۔ قابیل کے پاس ہابیل کے قتل ناحق کا کوئی عقلی یا اخلاقی جواز نہ تھا مگر اس نے آتش حسد سے یہ ظلم کیا۔

کیا یوسف علیہ السلام غلام تھے؟

اﷲ تعالیٰ کے جلیل القدر رسول سیدنا یوسف علیہ السلام، والد محترم سیدنا یعقوب علیہ السلام بھی جلیل القدر رسول، دادا محترم سیدنا اسحاق علیہ السلام بھی جلیل القدر رسول۔ پردادا محترم سیدنا ابراہیم علیہ السلام خلیل اﷲ عظیم المرتبت نبی، دادا محترم کے بڑے بھائی سیدنا اسماعیل علیہ السلام بھی رسول۔ نبیوں کا خاندان، نسلی آزاد، محترم و معزز گھرانہ، اس کے باوجود برادرانِ یوسف نے محض ذاتی عناد کی بناء پر اپنے اس آزاد بھائی کو غلام بنا کر ان کی قدر و منزلت گھٹانے کی خاطر اہل قافلہ سے ان کی من گھڑت فرضی برائیاں بیان کیں اور چند کھوٹے درہم لے کر آپ کو ان کے ہاتھوں بیچ دیا، قرآن کریم بیان فرماتا ہے :

وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ الزَّاهِدِينَo وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِن مِّصْرَ لاِمْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا

يوسف، 12 : 20.21

’’اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے (جو موقع پر آ گئے تھے اسے اپنا بھگوڑا غلام کہہ کر انہی کے ہاتھوں) بہت کم قیمت گنتی کے چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا کیوں کہ وہ راہ گیر اس (یوسف علیہ السلام کے خریدنے) کے بارے میں (پہلے ہی) بے رغبت تھے (پھر راہ گیروں نے اسے مصر لے جا کر بیچ دیا)o اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر تھا اور وہ بادشاہ مصر ریان بن ولید کا وزیر خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا : اسے عزت و اکرام سے ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔‘‘

دیکھ لیں۔۔۔ نہ جنگ نہ جہاد، نہ کوئی نسلی غلام بلکہ ایک آزاد معزز ترین پیغمبر زادے کو اس کے اپنے بھائی محض ذاتی دشمنی کی بناء پر اغواء کرتے اور زبردستی غلام بنا کر تاجروں کے ہاتھوں بیچتے ہیں پھر تاجر عزیز مصر کے ہاتھ خوب منافع کما کر اس ’’غلام‘‘ کو بیچ دیتے ہیں۔ مدعائے کلام یہ ہے کہ قرآن کی نظر میں نہ یہ غلام ہے، نہ مال نہ اس کی قیمت حلال مگر ظالم سماج یہ سب کچھ کر رہا ہے۔

آج تک ظالم افراد و طبقات نے لوگوں کے اغواء اور خریدنے بیچنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ اغواء شدہ عورتیں، مرد، بچے سبھی قسم کے انسان ہیں۔ ان کو دنیا کے مختلف علاقوں سے اپنے خونخوار ایجنٹوں کے ذریعے مختلف ظالمانہ طریقوں سے اغواء کر کے دوسرے علاقوں میں انسان نما درندوں کے ہاتھوں بیچ دیا جاتا ہے۔ وہ عورتوں اور بچوں سے بدکاری کے ساتھ ساتھ بچوں کو اونٹوں کی دوڑ جیسے شرمناک مقاصد کے لئے استعمال کر کے اپنے لئے دنیا و آخرت کی لعنت حاصل کرتے ہیں۔ بڑوں سے بیگار لیتے اور ان کی کمائی پر عیاشی کرتے ہیں۔ یہ ظلم ناروا آج بھی ہوتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں ہو رہا ہے۔

آج کل دنیا میں کہیں بھی غلام نہیں۔ سب آزاد ہیں بلکہ زبردستوں نے کچھ غریب لوگوں کو بلاجواز اپنا غلام، لونڈی بنا رکھا ہے۔ ان کا کاروبار ہو رہا ہے اور جہلاء اس کا سبب اسلام کو ٹھہراتے ہیں العیاذ باﷲ۔ یہ لوگ نہ شرعاً لونڈیاں ہیں نہ غلام، ان کی خرید و فروخت حرام اشد حرام ہے اور ان کی قیمت وصول کرنا خنزیر کی طرح ناجائز ہے۔

محدثین نے ایک باب باندھا ہے ’’باب اثم من باع حرا‘‘ آزاد انسان کو بیچنے کا گناہ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

ثلثة انا خصمهم يوم القيامة رجل أعطی بی ثم عذر، ورجل باغ حرا فاکل ثمنه، ورجل استاجر أجيرا فاستو فی منه ولم يعط اجره.

بخاری، 1 : 297

’’قیامت کے دن تین قسم کے لوگوں کے ساتھ میں خود جھگڑوں گا : (1) اس سے جس نے میرے نام پر کسی سے معاہدہ کیا پھر اس کی خلاف ورزی کی، (2) وہ جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت ہڑپ کی (3) وہ جس نے کسی مزدور سے کام پورا لیا اور پوری اجرت نہ دی۔‘‘

حدیثِ مبارکہ میں بیان شدہ دیگر تفصیلات کے علاوہ ایک نقطہ ہمارے مدعا کو واضح کر رہا ہے کہ اسلام نے انسانوں کی خرید و فروخت کو نہ صرف جرم بلکہ انسانیت کے ساتھ ظلم قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول رحمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو انسانیت کے ناتواں کندھوں سے ظلم کے یہی بوجھ اتارے ہیں اور ستم رسیدہ مرد و خواتین کی گردنیں صدیوں پرانی غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروائی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر دور میں انفرادی اور اجتماعی مظالم کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے خواہ وہ مسلمانوں کا معاشرہ ہو یا غیر مسلموں کا لیکن بطور مجموعی اسلامی حکومتوں اور اسلامی معاشروں میں غلاموں یا لونڈیوں کا کلچر کبھی بھی نہیں رہا۔

بعض ممالک میں غلامی؟

کچھ لوگ آج کل بعض مسلمان ممالک کے بادشاہوں کی مثال دے کر اسلام کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ عرب بادشاہوں اور امراء و شیوخ کا یہ عمل ان کا ذاتی ہے۔ درحقیقت آج کل مشرق وسطیٰ کی بعض ظالم و جابر مطلق العنان بادشاہتوں میں، عیاش شیوخ و امراء کے ہاں ازمنہ وسطیٰ کے تاریک ادوار کی طرح محلات میں سینکڑوں حسین و جمیل عورتوں کے مجرے ہوتے ہیں۔ یہ محلات بدکاری کے بڑے مراکز ہیں۔ ان کے سفارتی مشن صرف یہ فریضہ انجام دیتے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے سے حسین و جمیل لڑکیاں حاصل کریں اور بھاری معاوضوں کے بدلے ان شیوخ کو پیش کریں۔ ان میں سے بعض بچیاں مختلف ذرائع سے اغواء کر کے لائی جاتی ہیں اور بھاری قیمتوں پر بیچی جاتی ہیں اور کچھ غربت کے ہاتھوں تنگ والدین خود اپنی کمسن بچیوں کا سودا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آزاد انسانوں کی یہ بیع و شراء قطعاً حرام ہے۔ یہ قیمت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ یہی حال ہے بچوں بلکہ بڑوں کا کہ ان کو ظالم لوگ خود یا اپنے ایجنٹوں یا ایجنسیوں کے ذریعے اغواء کر کے یا دھوکہ دہی سے اپنے شیطانی جالوں میں پھانستے، ان سے بیگار لیتے ہیں، ان کو دوسرے ملکوں میں سپلائی کرتے اور ان سے جبراً جرائم کرواتے ہیں۔ ان کو دوسروں کے ہاتھوں بیچتے، انہیں منشیات، قتل، ڈکیتیوں، سمگلنگ اور دیگر غیر اخلاقی جرائم میں استعمال کرتے ہیں اور یہ قبیح کاروبار دنیا بھر میں زوروں پر ہے۔

نہ اغواء کرنے والوں کو ان مظلوم و مقہور انسانوں پر کوئی حق ملکیت ہے، نہ یہ آقا و غلام کا رشتہ ہے۔ یہ ایک ڈھٹائی ہے، اندھیرنگری ہے، ظلم ہے۔ یہ جو بعض عرب شیوخ نے سینکڑوں داشتائیں اور باندیاں بنا کر رکھی ہیں۔ یہ کوئی شرعی باندیاں نہیں بلکہ اغواء شدہ آزاد عورتیں ہیں جن کو ذلیل و رسواء کیا جا رہا ہے اور ظلم پر ظلم یہ کہ یہ سب اسلام کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ ہم اوپر دیکھ آئے ہیں کہ کس طرححق ناشناس لوگوں نے یوسف ں کو غلام بنا کر بیچ ڈالا۔ کیا آپ غلام تہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔ یونہی زبردست لوگ زیردستوں کو بلا کسی شرعی جواز کے زبردستی غلام و محکوم بنا کر رکھیں اور ان کی خرید و فروخت کریں تو یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ اسلام کے ساتھ اس کا کیا تعلق؟ یہاں نہ کافروں سے کسی نے جہاد کیا، نہ جنگی قیدی آئے، نہ مناو فداء کا مرحلہ پیش آیا تو لونڈیاں غلام کہاں سے آ گئے؟

غلام اور لونڈی بنانے کی نوبت کب آتی ہے؟

آج دنیا میں کہیں بھی شرعاً و قانوناً نہ کوئی غلام ہے نہ لونڈی۔ جب کبھی کفار سے اسلامی حکم کے مطابق جہاد فی سبیل اﷲ ہو گا، ان شاء اﷲ ہم فاتح ہوں گے، دشمن کے لوگ ہمارے جنگی قیدی بنیں گے پھر ہم ان کو قرآنی حکم کے مطابق احسان کر کے مفت یا فدیہ لے کر آزاد کریں گے۔ ہاں جو جنگی جرائم میں ملوث ہوئے، غدار ہوئے، مسلمانوں پر بلاجواز ستم کے مرتکب پائے گئے ان کو آزاد کرنا ہماری قومی سلامتی کے لئے خطرناک ہوا، وہ اﷲ و رسول کی جناب میں حد درجہ گستاخی و بے ادبی کے مرتکب پائے گئے یا ہم ان کو احسان کر کے آزاد کرتے ہیں مگر وہ ہمارے حسن سلوک اور اسلامی معاشرتی اقدار سے اس قدر متاثر ہیں کہ واپس اپنے ملک جانے پر تیار نہیں بلکہ ہمارے پاس رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ہیں وہ مجبوری کی صورتیں جن میں ہم ان کو جان کی امان دے کر اپنے پاس رہنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ اب اگر ہم مناسب سمجھیں تو ان کو غلام لونڈیاں بنا سکیں گے۔ اس میں ان کا بھلا، تحفظ اور ان کی امان ہے۔ یہ ہماری خوشی نہیں مجبوری ہے کیونکہ انہیں فوری طور پر غذا، رہائش اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ یہ دراصل ان سے رعایتی برتاؤ ہے۔

اس ایک جنگی مجبوری کے سوا اسلام میں کسی آزاد کو لونڈی یا غلام بنانا جائز نہیں۔ کوئی زبردست قوم یا فرد کسی کو ناحق، اپنا محکوم بنا لے تو اس کو اسلام ظلم اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے نتیجہ میں خود پاکستان کے حامی فوجی و سول ہزاروں کی تعداد میں دشمن کے جنگی قیدی بن کر، ان کے غلام بنے رہے جن کے کوئی حقوق نہ تھے نہ کوئی تحفظ۔ جس کو دشمن نے چاہا بیدردی سے قتل کیا، جس کو چاہا زخمی کیا، ذلیل و رسواء کیا کئی گولیوں سے اڑا دیئے گئے۔ لاکھوں عورتوں کی عصمت دری ہوئی۔ یہی کچھ ہندوستان، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، کوسوو، فلسطین اور مقدونیہ میں عرصہ سے ہو رہا ہے اور مسلمان ہی ہر جگہ اپنی عزت اور بقاء کی خاطر قتل و معذور ہو رہے ہیں۔ وطن سے بے وطن اور گھروں سے بے گھر کئے جا رہے ہیں۔ ان کا جرم کیا ہے لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پر ایمان رکھنا اور بس۔ سامراج ان کو نہ جینے کا حق دیتا ہے، نہ آزادی دین و عقیدہ، نہ ان کے خون کا تحفظ نہ مال و آبرو کی حفاظت۔ پھر بھی اسلام ہی کو بدنام کرنے کے لئے شور مچایا جا رہا ہے کہ اس میں غلاموں اور باندیوں کا رواج ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو تاریخ اسلام میں اس کی مثالیں موجود ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو عہد نبوی کی جنگوں میں لوگوں کو غلام بنایا گیا اور نہ عہد خلفائے راشدین میں ایسا عمل ہوا۔ ہاں ایک دو واقعات ایسے ہوئے جن میں بہت ہی مخصوص حالت کے پیش نظر ایسی نوبت آئی کیونکہ بصورت دیگر فتنہ و فساد کا اندیشہ تھا۔

جنگی قیدیوں کے لئے اسلامی تعلیمات

چونکہ جنگی قیدیوں کی صورت میں ہی مرد اور عورتیں ’’غلام اور لونڈی‘‘ کے شرعی حکم میں آتی ہیں اس لئے ہم ذیل میں اولاً عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عہد خلافتِ راشدہ کی مثالوں سے واضح کریں گے کہ جنگی قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا۔ نیز قرآن و سنت اور فقہائے کرام نے جنگی قیدیوں کے متعلق کیا حکم دیا ہے بالترتیب مختصراً روشنی ڈالتے ہیں۔ قرآن کریم میں جنگی قیدیوں کے بارے میں واضح فرمان ہے :

فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ

محمد، 47 : 4

’’پھر جب (میدان جنگ میں) تمہارا مقابلہ (متحارب) کافروں سے ہو تو (دورانِ جنگ) ان کی گردنیں اڑا دو، یہاں تک کہ جب تم انہیں (جنگی معرکہ میں) خوب قتل کر چکو تو (بقیہ قیدیوں کو) مضبوطی سے باندھ لو، پھر اس کے بعد یا تو (انہیں) (بلامعاوضہ) احسان کر کے (چھوڑ دو) یا فدیہ (یعنی معاوضہِ رہائی) لے کر (آزاد کر دو) یہاں تک کہ جنگ (کرنے والی مخالف فوج) اپنے ہتھیار رکھ دے (یعنی صلح و امن کا اعلان کر دے)۔‘‘

دیکھ لیجئے! یہ آیتِ کریمہ جو محکم ہے منسوخ نہیں۔ اس میں جنگی قیدیوں کے بارے میں دوٹوک الفاظ میں فرما دیا کہ یا تو مناسب سمجھو تو ان پر احسان کرتے ہوئے بلامعاوضہ ان کو چھوڑ دو یا مناسب سمجھو تو ان سے فدیہ لے کر آزاد کر دو۔ قرآن کریم میں کسی مقام پر ان کو غلام یا لونڈیاں بنانے کا حکم کا اشارہ تک نہیں اور نہ ہی حدیث پاک میں ایسا ہے۔ دراصل کفار سے جنگ کرنے اور فتح پانے کے بعد ان سے کیا سلوک کیا جائے؟ اس بارے میں مختلف مواقع پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین نے مختلف طرق اختیار فرمائے۔ ہم ذیل میں ان کی مختصراً وضاحت کر رہے ہیں۔

قیدیوں کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل

فتح مکہ بزور شمشیر ہوئی مگر چند مخصوص ظالموں اور گستاخوں کو چھوڑ کر باقی سب کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا گیا۔ ان ازلی بدبختوں کے بارے میں کیا حکم ہوا کہ یہ جہاں ملیں ان کو قتل کر دیا جائے خواہ غلافِ کعبہ میں لپٹے ہوں چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے دن شہر مکہ میں داخل ہوئے۔ سر مبارک پر ہیلمٹ تھا۔ جب ہیلمٹ اتارا تو ایک شخص نے آ کر عرض کی۔ ابن خطل غلافِ کعبہ کے پیچھے چھپا ہوا ہے فرمایا : اقتلہ ’’اسے قتل کر دو!‘‘

بخاری، 2 : 214

یونہی فتح مکہ کے دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اﷲ بن ابی سرح، عکرمہ بن ابو جہل، ھبار بن الاسود، ہندہ زوجہ ابی سفیان، کعب بن زبیر، وحشی، مقیس بن صبابہ، حویرث بن نقید وغیرہ کو قید کر لیا مگر بعد میں ان میں سے بھی اکثر کو معاف کر دیا گیا۔ صرف مقیس بن صبابہ ایک انصاری کے ہاتھوں اور الحویرث بن نقید حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے ہاتھوں قتل ہوا باقی سب کو معاف کر دیا گیا اور سارے مسلمان ہو گئے۔

حاشیہ، بخاری، 2 : 214، سیرۃ الحبلی

امام ابو عبید القاسم بن سلام (م 224ھ) فرماتے ہیں :

جاء نا الخبر عن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فی حکم الاساری من المشرکين بثلاث سنن. المن والفداء والقتل وبها نزل الکتاب قال جل ثنائه (فاما مناً بعد وأما فداء حتی تضع الحرب أوزارها، وقال (فاقتلوا المشرکين حيث وجدتموهم) ولکل قد عمل النبی صلی الله عليه وآله وسلم

’’ہمارے پاس مشرک جنگی قیدی کے بارے میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین طریقے آئے ہیں : المن (احسان کر کے ان کو چھوڑ دینا) الفداء (فدیہ لے کر چھوڑ دینا) القتل (قتل کر دینا) اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضرورت و حکمت کے تحت ان میں سے ہر ایک پر عمل فرمایا ہے۔‘‘

احسان کی مثالیں

1۔ المن یعنی احسان کی ایک مثال اہل مکہ سے آپ کا برتاؤ ہے کہ چند کے علاوہ سب کو معاف فرما دیا۔ کسی کو نہ غلام لونڈی بنایا، نہ کوئی دوسری سزا دی، پھر اعلان فرما دیا کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے، بھاگنے والے کا پیچھا نہ کیا جائے، کسی قیدی کو قتل نہ کیا جائے اور جو دروازہ بند کر لے اس کے لئے بھی امان ہے۔

2۔ دوسری مثال اہل خیبر کی ہے جسے آپ نے بزور شمشیر فتح فرمایا۔ زمین آپ نے تقسیم فرما دی اور یہودی مردوں پر احسان فرمایا۔ ان کو زمین پر کام کرنے کا اجازت دے دی کہ پیداوار آدھی ہماری آدھی تمہاری، جب تک اﷲ نے چاہا تمہیں یہاں رہنے دیا جائے گا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آئے روز فتنہ انگیزی کے سبب ان کو خیبر سے جلاوطن کر کے ملک شام بھیج دیا۔

3۔ جنگ قریظہ کے موقع پر عمر بن سعد اور زبیر بن باطا کو معاف فرما دیا حالانکہ حکم قتل میں یہ بھی شامل تھے۔

4۔ جبیر بن معطم فرماتے ہیں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بدری قیدیوں کے بارے میں بات کرنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا والد معظم بن عدی اگر میرے پاس آ کر سفارش کرتا تو میں ان کو آزاد کر دیتا۔ علامہ ابو عبید فرماتے ہیں یہ ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احسان فرمانے کا طریقہ جسے بعد کے ائمہ نے اپنایا۔

5. ان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم رد ستة الاف من سبی هوازن من النساء والصبيان والرجال الی هوازن حين اسلموا.

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہوازن کے چھ ہزار قیدی آزاد فرما دیئے جن میں عورتیں، بچے اور مرد سبھی شامل تھے، جب وہ مسلمان ہو گئے۔

ابو عبيد، کتاب الاموال : 117

صحيح بخاری، 1 : 242

6۔ غزوہ بنی المصطلق 6 ھ میں ہوا۔ فتح کے نتیجہ میں کچھ جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگے ان میں سیدہ جویریہ بنت الحارث بن ابی ضرار سردار قبیلہ کی صاحبزادی بھی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کر کے ان کے حق مہر کے طور پر ان کو اور ان کی قوم کے تمام جنگی قیدیوں کو رہا فرمایا، یہ سو گھرانوں کے قیدی تھے۔

ابن کثير، البديه والنهايه، 4 : 161

کتاب الاموال : 120

اسی طرح احسان کر کے جنگی کافروں کو چھوڑ دینے کی سینکڑوں مثالیں عہد نبوی و عہد خلافتِ راشدہ میں ہمارے سامنے ہیں۔

فدیہ کی مثالیں

بدر کے قیدیوں سے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدیہ وصول کر کے انہیں آزاد فرما دیا۔ بدری قیدیوں کا زیادہ سے زیادہ چار ہزار درہم فدیہ اور کم سے کم جتنے کی توفیق ہے۔ جو رقم ادا نہ کر سکے وہ انصاری بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے تو آزاد ہے۔ خطرناک جنگی قیدیوں کو عہد نبوی، عہد خرافت راشدہ اور اسلامی تاریخ کے دیگر ادوار میں قتل کر دینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں لیکن وہ بہت کم ہیں۔

خلفائے راشدین کا عمل

الاشعث بن قیس، کندہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر مرتد ہو گیا۔ ان لوگوں کا محاصرہ ہوا۔ اشعث نے ان میں سے ستر آدمیوں کے لئے امان طلب کی مگر اپنے کے لئے امان کا مطالبہ نہ کیا۔ اسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم تجھے قتل کرتے ہیں تیرے لئے کوئی امان نہیں۔ اس نے کہا مجھ پر احسان کیجئے اور مسلمان ہو گیا۔ آپ نے اس پر احسان کر کے اسے آزاد کر دیا اور اپنی بہن کا رشتہ بھی اس سے کر دیا۔

کتاب الاموال لابی عبید : 112

ایران کے شہر تستر کا محاصرہ ہوا۔ وہاں کے گورنر ہرمزان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر رضامندی کی اور قلعہ سے باہر آ گیا۔ اوب موسیٰ اشرعی رضی اللہ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔ جب ہرمزان دربارِ خلافت میں پہنچا تو خاموش رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بات کرو! بولا زندہ شخص کا کلام کروں یا مردہ کا؟ فرمایا بات کرو! کوئی ایسی بات نہیں، حضرت رضی اللہ عنہ نے معاف کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ نے فرمایا : برا بن مالک اور ابن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں؟ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ جب مجھے اس کے قتل کا خطرہ محسوس ہوا تو میں نے کہا، اسے قتل کرنا جائز نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی اس نے تمہیں کچھ دے دیا ہے؟ میں نے کہا یہ بات نہیں بلکہ آپ نے اسے بولنے اور عدم خطرہ کا یقین دلایا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس پر گواہ لاؤ ورنہ میں پہلے تمہیں سزا دوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے میں باہر نکلا تو زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی۔ ان کو بھی میرے والی بات یاد تھی ان کی گواہی پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کو آزاد کر دیا۔ وہ مسلمان ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا وظیفہ مقرر فرمایا۔

امام ابو عبید قاسم بن سلام درجہ بالا مثالوں پر یوں تبصرہ فرماتے ہیں :

فکل هؤلاء بعد بدر وقد من رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم علی من من منهم بلا فدية ولا مال وانما يؤخذ بالآخر من فعل رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم الا انه قد فادی الرجال من المسلمين بالرجال والنساء من المشرکين وهذه سنة قائمة عنه.

ابو عبيد، کتاب الاموال، 120

’’یہ سب جنگِ بدر کے بعد ہوا ان میں سے جن پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احسان مناسب سمجھا فدیہ و مال لئے بغیر احسان فرما کر آزاد فرما دیا، اور فیصلہ کن بات تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری عمل سے ہی لی جائے گی۔ ہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ مشرک مردوں اور عورتوں (جنگی قیدیوں) کو فدیتاً آزاد فرما کر کچھ مسلمان (جنگی قیدی) مردوں کو آزاد کروا لیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے یہی اصول قائم رہا۔‘‘

ائمہ اور محدثین کی رائے

علامہ آلوسی نے فرمایا :

مذهب الاکثرون الی ان الامام بالخيار ان شاء قتلهم ان لم يسلمو لانه صلی الله عليه وآله وسلم قتل عقبة بن ابی معيط وطعيمة بن عدي، والنضر بن الحارث.

’’اکثر علماء اس طرح گئے ہیں کہ حاکمِ اسلام کو اختیار ہے کہ جب وہ جنگی قیدی مسلمان نہ ہوں چاہے تو ان کو قتل کرے کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط اور طیعمہ بن عدی اور نطر بن الحارث کو قتل فرمایا ہے۔‘‘

اور اس لئے بھی ان کے قتل سے فساد کا مادہ کلی طور پر ختم ہو جائے گا ہاں کوئی ایک مجاہد اپنے طور پر کسی جنگی قیدی کو قتل نہیں کر سکتا۔ اگر کسی کو معقول خطرناک صورت پیدا ہوئے بغیر قتل کرے گا تو امام اس کو سزا دے گا۔ اور چاہے تو ان کو غلام بنا لے کیونکہ اس سے ان کا شر بھی ختم ہو گا اور مسلمانوں کو بہت فائدہ بھی ہو گا۔ چاہے تو انہیں آزاد کر کے مسلمانوں کے لئے ذمی بنا دے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ سواد سے کیا ۔ ہاں عربی مشرک قیدی اور مرتدین کہ ان سے نہ جذیہ قبول ہو گا اور نہ ان کو غلام بنایا جائے گا، ان کا حکم یا اسلام ہے یا تلوار۔ اگر قید ہونے کے بعد وہ اسلام قبول کر لیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ اسلام لانے سے ان کا شر ختم ہو گیا۔ البتہ ان کو غلام بنانا جائز ہوگا۔ ہاں اگر جنگی قیدی بننے سے پہلے وہ اسلام قبول کر لیں تو ان کو غلام نہیں بنایا جائے گا، وہ آزاد مسلمان ہیں۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ

امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت یہ ہے کہ جنگی قیدیوں سے فدیہ نہیں لیا جائے گا کہ اس میں کفر کی مدد ہے کہ اس طرح کافر قیدی واپس جا کر ہم سے دوبارہ لڑے گا اور اس کے لڑنے کے شر سے اپنا دفاع کرنا کسی مسلمان کی جان چھڑا لینے سے بہتر ہے کیونکہ ہمارا قیدی جو ان کے ہاتھوں میں ہے اس کی تکلیف و نقصان پوری مسلمان جماعت کو ہو گا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ فدیہ لیا جائے گا اور یہی قوم ہے امام محمد، امام ابو یوسف، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا۔

علامہ سید محمود آلوسی بغدادی، م1270ھ فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی، 26 : 40

ثمامہ بن اثال قیدی ہو کر آیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی گفتگو سن کر بلا فدیہ اُسے آزاد فرما دیا۔ اس احسان کے بدلے وہ فوراً مسلمان ہو گیا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :

’’کافر جنگی قیدیوں کا معاملہ امام کی صوابدید پر ہے، وہ فیصلہ کرے جو اسلام اور مسلمانوں کے لئے مفید تر ہو۔ زہری، مجاہد اور ایک جماعت نے کہا کہ کافر قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینا بالکل جائز نہیں۔ حسن بصری اور عطاء نے کہا، قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ امام کو اختیار ہے کہ احسان کر کے انہیں چھوڑ دے یا فدیہ لے کر۔ امام کا قول یہ ہے کہ فدیہ لئے بغیر احسان نہیں کیا جا سکتا۔ حنفیہ کا کہنا ہے کہ احسان بالکل جائز نہیں، نہ فدیہ لے کر نہ بغیر فدیہ لئے کیونکہ اس طرح قیدی واپس جا کر دوبارہ ہمارے ساتھ لڑے گا۔ امام طحاوی نے کہا ظاہراً یہ آیت جمہور کی دلیل بن سکتی ہے۔‘‘

امام ابو عبید نے فرمایا کہ ان آیات (قتل، احسان اور فدیہ لے کر چھوڑنے کے احکام پر مشتمل) میں کوئی نسخ نہیں بلکہ سب محکم ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر ایک پر حسبِ حکمت عمل فرمایا ہے۔ بدر کے دن بعض کافروں کا قتل کیا، بعض سے فدیہ لیا اور بعض پر احسان کر کے چھوڑ دیا یونہی آپ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی قریظہ کو قتل کیا اور بنی المصطلق پر احسان کیا۔ ابن خطل وغیرہ کو فتح مکہ کے موقع پر قتل کیا اور باقی اہل مکہ پر احسان فرما کر آزاد کر دیا۔ ہوازن قبیلہ کو قیدی بنانے کے بعد، احسان فرمایا اور ان کو آزاد کر دیا۔ ثمامہ بن اثال کو قید کر کے فدیہ لئے بغیر آزاد کر دیا۔

یہاں تک تو مسئلہ ہے مردوں کے بارے میں۔۔۔ رہیں عورتیں اور بچے وہ قید ہوتے ہی محکوم ہو جائیں گے۔ اب ان اسیر کافرہ عورتوں کے عوض ان مسلمانوں قیدی عورتوں کو رہا کروایا جائے گا جو کافرہ عورتوں کے عوض ان مسلمان قیدی عورتوں کو کروایا جائے گا جو کافروں کی قید میں ہیں۔ اگر جنگی قیدی مسلمان ہو گیا تو بالاتفاق سزائے قتل سے بچ گیا۔ رہا اس کی غلامی اور آزادی کا مسئلہ تو اس میں علماء کے دو قول ہیں۔

حافظ ابن حجر، فتح الباری، 6 : 152

امام بخاری نے ایک باب باندھا ’’باب عتق المشرک‘‘ مشرک کو آزاد کرنا۔ حکیم بن حزام نے زمانہ جاہلیت میں سو غلام آزاد کئے تھے اور سو اونٹ ضرورت مندوں کو سواری کے لئے دیئے۔ جب مسلمان ہوئے تو سو اونٹ مزید سواری کے لئے صدقہ کیے اور سو غلام آزاد کر دیئے۔ کہتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اﷲ! ’’مجھے ان نیکیوں کے بارے میں فرمائیں جو زمانہ جاہلیت میں نیکی سمجھ کر کرتا رہا۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

سلمت علی ما سلف لک من خيرا.

’’تو ان تمام نیکیوں کے ساتھ مسلمان ہو جو پہلے کیں۔‘‘

امام بدر الدین ابو محمد محمود بن العینی (م 855ھ) اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ حالتِ کفر میں یہ عبادت ہو گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان ہو گیا تو اب وہ نیک کام بھی فائدہ دیں گے جو زمانہ کفر میں کئے۔ اگر مسلمان نے کافر کو آزاد کیا تو بھی اسے آزاد کرنے کا ثواب ہو گا کیونکہ جب حکیم کے لئے اسلام قبول کرنے کے صدقے سے زمانہ کفر کی نیکیوں پر ثواب ملا تو وہ مسلمان جو حالتِ اسلام میں حکیم جیسی نیکی کرے وہ حکیم کے مرتبہ سے کم تو نہیں، بلکہ اجر و ثواب کا زیادہ مستحق ہے۔

صحیح، بخاری، عمدۃ القاری، 13 : 99

ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ کہ کافر جنگی قیدیوں میں اصل اصول قرآنی نص ہی ہے یعنی احسان کر کے مفت یا فدیہ لے کے ان کو ازاد کر دیا جائے۔ وہ تمام آیات جن میں تمام کافروں کو قتل کرنے کا حکم ہے وہ عام و مطلق نہیں بلکہ یا تو وہ جنگی قیدی ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں غیر معمولی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور مسلمانوں کو غیر معمولی اذیت دی جیسے فتح مکہ کے موقعہ پر عام معافی کے اعلان کے باوجود کچھ کے بارے میں حکم ہوا کہ ان کو قتل کر دو خواہ غلافِ کعبہ سے لپٹے ہوئے ہوں۔ یہ عام حکم نہ تھا، نہ کبھی اس پر عمومی عمل ہوا ہے، نہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عام جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنایا نہ اس کا قرآن و سنت میں حکم آیا ہے۔ عموماً قرآن و سنت کی روشنی میں یہ فیصلہ امام و حاکمِ اسلام کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمان کے لئے جو مفید اور بہتر سمجھے وہ کرے۔ یعنی معاف کرنا بہتر ہے تو معاف کر دے، مفت چھوڑنا بہتر ہے تو مفت اور فدیہ لے کے چھوڑنا مفید ہے تو اس پر عمل کرے۔ اگر غیر معمولی جرائم جیسے کشمیر، بوسنیا، چیچنیا اور فلسطین وغیرہ میں آج کل کفار کے ہاتھوں آئے دن کا معمول بن چکے ہیں اگر ایسے جرائم پیشہ ظالم و قاتل، خوانخوار درندے مسلمانوں کے قابو آ جائیں تو ان سے کوئی نرمی روانہ رکھی جائے بلکہ ان کو اسی طرح اذیتیں دے دکر قتل کیا جائے جیسے انہوں نے مسلمانوں کو کیا۔ ان کو لونڈی غلام بنانا تو کوئی سزا ہی نہیں کیونکہ لونڈی غلام کی جان و عزت کی حفاظت کی جاتی ہے او ان کو اپنے اہلِ خانہ جیسا، کھانا، رہائش و لباس مہیا کیا جاتا ہے ان کی طاقت سے زیادہ کوئی کام ان سے نہیں لیا جاتا یہ ان کو تو ذلت کی موت مارنا ہی عدل و انصاف ہے۔

پس خلاصہ ان تما دلائل و مباحث کا یہ ہے کہ کفار جنگی قیدیوں سے جیسا مناسب ہو گا ایسا برتاؤ کیا جائے گا اور آخری فیصلہ حاکمِ اسلام کے سپرد ہے۔ ظلم کسی پر کسی صورت نہ ہو کا۔ آپ نے جو فرمایا ہے کہ غلامی ختم کرنے کا شرعی ثبوت کیا ہے، تو ہم نے حسبِ توفیق تمام بات بیان کر دی ہے ۔ قرآن و سنت میں لونڈی غلام بنانے کا حکم نہ ہونا ہی ہمارے موقف کی دلیل ہے کہ اسلام میں غلام کا عمومی تصور نہیں۔ ہاں اگر ہم جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی نہ کر سکیں کہ ممکن ہی نہ ہو، فدیہ بھی نہ دیں، مفت میں آزاد کرنا حکمت عملی کے خلاف ہو یا مسلمانوں کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وہ قیدی اپنے علاقہ میں واپس نہ جائیں یا ان کو آزاد کرنا ہمارے قومی وجود کے لئے باعثِ خطرہ ہو۔ ان صورتوں میں ان کو قتل بھی نہ کر سکیں کہ امان دے بیٹھے ہیں۔۔۔ تو اب لونڈی غلام بنانا جائز ہو گا۔ اگر باندی کا خاوند اس کے ہمراہ ہے تو ہم صرف نوکرانی کے طور پر اس سے کام لے سکتے ہیں۔ اگر کنواری یا بیوہ یا اس کا خاوند دارالحرب میں رہ گیا تو ان صورتوں میں مسلمان حاکم جس کو عطا کرے وہ اس سے چاہے تو قربت کر سکے گا۔ یہ اجازت اسی شریعت نے دی جس نے نکاح کرنے کی صورت میں بیوی سے قربت کی اجازت دی ہے۔

خلاصہ :

اگر جنگی قیدی فدیہ دے دیں یا ہم اسحان کر کے ویسے ہی انہیں آزاد کرنا چاہیں یا ان کے قیدیوں سے تبادلہ کی کوئی صورت بن جائے اور حکمتِ عملی کا تقاضا بھی ہو تو ہم کسی کو لونڈی غلام بنائیں گے نہ قتلِ عام کریں گے۔ ہاں مگر بعض افراد یا اقوام کے جنگی جرائم اتنے شرمناک و ہولناک ہوتے ہیں کہ ان کو معاف کرنا ہزاروں بیگناہوں کے خون سے غداری بن جاتی ہے۔ ایسے انسان نما درندوں کو قتل بھی کیا جائے گا اور قید بھی اور مناسب ہو تو غلام و لونڈی بھی بنایا جائے گا۔ ایسے ہی بد عہد خونخوار بھیڑیا صفت ظالموں کے بارے میں ہے۔

مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًاo

الاحزاب، 33 : 61

’’(یہ) لعنت کیے ہوئے لوگ جہاں کہیں پائے جائیں، پکڑ لیے جائیں اور چُن چُن کر بری طرح قتل کر دیے جائیں۔‘‘

محض کفر و شرک کی بناء پر کسی کا خون بہانا شرعاً درست نہیں۔

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لاَّ يَعْلَمُونَo

التوبه، 9 : 6

’’اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواستگار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لیے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے۔‘‘

دیکھ لیجئے! سورۃ توبہ آخر میں نازل ہونی والی مدنی سورت ہے اور اس میں پناہ کے متلاشی مشرک کو قتل کرنے کا نہیں، پناہ دے کے اسے محفوظ مقام تک پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے جبکہ اس سے بہت پہلے 5 ھ کو غزوہ احزاب میں کچھ کفار کو ملعون قرار دے کر مسلمانوں کو حکم ہوا کہ یہ لوگ جہاں ملیں انہیں قتل کر دو!‘‘ جبکہ سورہ توبہ میں انہیں پناہ دینے کا حکم ہے جو 9 ھ میں فتح مکہ کے ایک سال بعد نازل ہوئی۔ پس خلاصہ یہ کہ نہ ہر کافر کو قتل کا حکم ہے نہ لونڈی غلام بنانے کا بلکہ مختلف احوال و واقعات و مقتضیات ہیں۔ اسی لئے اسلام کے دورِ اول میں قیدیوں کے ساتھ مختلف اوقات میں مختلف سلوک کئے گئے۔ آج بھی اسی طرح کیا جائے گا۔

باندی کے حلال ہونے کی توجیہہ :

اب آتے ہیں اس مسئلہ کی طرف کہ باندی کیونکہ حلال ہوتی ہے سوچئے کہ ایک اجنبی عورت جس کو دیکھنے، سننے اور خلوت نشین ہونے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا گیا ہے۔ دوگواہوں کے سامنے حق مہر کے عوض ایجاب و قبول کے دو لفظ بولنے سے اتنی بڑی تبدیلی کیسے آ گئی کہ آپ اس سے بے تکلف ہمکلام ہونے لگے بلکہ اس کے ہمراہ خلوت نشین اور بے پردہ ہو گئے۔ آپ میاں بیوی بن گئے۔ ایک منٹ میں وہ حقوق و فرائض سامنے آ گئے ہیں جن کا تصور بھی ناممکن تھا۔ دراصل یہ چند الفاظ بذاتہ کچھ نہ تھے، ان کو اﷲ تعالیٰ و رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم نے قانونی حیثیت دیدی، یہی نکاح کہلاتا ہے۔ پس اسی طرح اﷲ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسے منکوحہ بیوی سے قربت حلال فرما دی اسی طرح اس لونڈی سے بھی قربت بحیثیت لونڈی حلال فرما دی جو شادی شدہ نہ ہو یا ہو تو اس کا خاوند دارالحرب میں ہو اور وہ بی بی جنگی قیدی بن گئی۔ نہ فدیہ کی صورت بنی، نہ احسان کی صورت اور نہ تبادلہ کی۔ اس کو قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ

(النساء، 4 : 24)

’’اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان (جنگی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آ جائیں‘‘

أی هن محرمات الا ما ملکت اليمين بالسبی من أرض الحرب فان تلک حلال للذی تقع فی سمهه وان کان له زوج. أی فهن لکم حلال اذا انقضت عدتهن.

’’یعنی خاوندوں والیاں تم پر حرام ہیں مگر وہ باندیاں خواہ خاوندوں والی ہوں جو دارالحرب سے قید ہو کر تمہاری ملکیت میں آ گئیں کہ وہ جس کے حصہ میں آہیں اس کے لئے حلال ہیں۔ اگرچہ ان کے خاوند (دارالحرب میں ہوں)۔ یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت گزر جائے۔‘‘

یہی مذہب ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابو عبد اﷲ بن محمد بن احمد انصاری قرطبی کا۔

(الجامع الاحکام القرآ،ن ص، 5 : 80، طبیع بیروت)

اس میں سب کا اتفاق ہے کہ جب میاں بیوی میں سے ایک جنگی قیدی بن جائے اور اسے دارالاسلام میں لے آیا جائے تو میاں بیوی میں فرقت ہو جائے گی۔‘‘ اور اگر دونوں ایک قیدی کر کے لائے جائیں تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کا نکاح ختم اور مالک کو جازت ہے کہ اگر حاملہ ہے تو بچے کی پیدائش اور غیر حاملہ ہے تو حیض کے ذریعے استبراء رحم کرنے کے بعد اس سے قربت کر لے، اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ اس صورت میں نکاح ختم نہیں ہوا۔ لہٰذا کسی دوسرے کے لئے یعنی مالک کے لئے اس سے قربت جائز نہیں۔

اما رازی، تفسیر کبیر، 10 : 41

شرعی باندیوں سے قربت :

إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَo ففَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَo

المؤمنون، 23 : 6.7

’’سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بے شک (احکامِ شریعت کے مطابق ان کے پاس جانے سے) ان پر کوئی ملامت نہیں۔ پھر جو شخص ان (حلال عورتوں) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے (سرکش) ہیں۔‘‘

یہ دو آیتیں اس باب میں قطعی دلیل ہیں کہ کسی شخص کے لئے جائز قربت کی صرف دو صورتیں ہیں۔ ایک نکاح اور دوسری شرعی باندی (ملکِ یمین)۔ جب اﷲ تعالیٰ نے خود ان قربت کی دو صورتوں کو جائز قرار دے کر باقی تمام دروازے حرام کر دیئے تو کون ہے جو اﷲ کے حلال کو حرام یا حرام کو حلال قررا دے؟ حلال و حرام ہونے کا سبب اﷲ کا حکم ہے۔ جس نے نکاح اور ملکِ یمین‘‘ کو صحتِ قربت کا ذریعہ قرار دے کر باقی تمام صورتوں مثلاً بدکار، متعہ وغیرہ کو حرام و ممنوع قرار دے دیا۔ مسلمان کو اپنے خدا پر اعتماد کرنا چاہیے اور شیطانی وسوسوں سے بچنا چاہیے۔

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر مارنے والے

لونڈی اور غلام کا نام سن کر اور صورتِ حال کو سجھے بغیر مغربی سامراج اور اس کے دیسی ایجنٹ نام نہاد دانشور، اسلام کو بدنام کرتے نہیں تھکتے اور آئے روز بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا رونا روتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں صرف جنگی قیدیوں اور جنگی مجرموں کو بعض ناگزیر صورتوں میں قتل نہ کرنے، اعضاء نہ کاٹنے اور اذیتیں نہ دینے اور ان کی جان، مال اور عزت کو تباہ و برباد نہ کرنے کی غرض سے لونڈی اور غلام کی قانونی سہولت رکھی گئی ہے۔ ان سے معافی، درگزر اور وسعت قلبی کا سلوک کرتے ہوئے، ان کی بقاء و تحفظ کے پیش نظر ان جنگی مجرموں کو مسلمان مجاہدین کے زیر دست کر دیا گیا ہے۔ ان جنگی قیدیوں کو قانوناً وہ آسائش و مراعات دیں جو یہ نام نہاد ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ اور مہذب قومیں آج آزاد انسانوں کو دینے کے لئے بھی تیار نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو حکم دیتے ہیں :

اخوانکم خولکم، جعلهم اﷲ تحت ايديکم فمن کان اخوه تحت يده فليطعمه مما يا کل ويلبسه مما يلبس ولا تکلفوهم ما يغلبهم فان کلفتموهم فاعينو هم.

’’تمہارے بھائی تمہارے ماتحت ہیں، جن کو اﷲ نے تمہارے زیر دست کر دیا، سو جس کسی کا بھائی اس کے زیر دست (ماتحت) ہو، تو اس کو وہی کھانا کھلائے جو خود کھاتا ہے۔ اسے وہی لباس پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ان کی طاقت سے زیادہ کام کی ان کو تکلیف نہ دو! اگر تکلیف دو تو ان کی مدد (بھی) کرو!۔‘‘

اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بار بار غور کیجئے۔۔۔ کیا مغربی سامراج اور اس کے مشرقی چیلے نام نہاد روشن خیال دانشمند اپنے گھریلو، صنعتی، تجارتی اور زرعی نوکروں، مزدوروں اور کسانوں کو یہ حقوق دے رہے ہیں جو اسلام نے غلاموں کو چودہ صدیاں پیشتر دیئے؟ کیا آج کے کھاتے پیتے لوگ اپنے ان زیر دستوں کو وہی کھانا، وہی لباس اور وہی رہائش دیتے ہیں جو اپنے استعمال میں رکھتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ گویا اسلام نے جو حقوق غلاموں کو دیئے وہ حقوق آج کوئی آزاد انسان کو دینے کے لئے تیار نہیں۔ پھر مغربی سامراج اور کفار کو دیکھو! وہ کشمیر، فلسطین، کوسوو، چیچنیا، بوسنیا اور مقدونیہ میں مسلمانوں کو بے دریغ قتل عام کرتے اور کرواتے ہیں۔ عزتیں پامال، بستیاں ویران اور بنیادی انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

تیسری دنیا کے معدنی وسائل پر قابض ان کی شہری آزادی کے غاصب اور بے گناہوں کی اجتماعی قبروں کے ذمہ دار، کس منہ سے اسلام کو غلام کے رواج دینے کا طعنہ دیتے ہیں۔ تم نے پورے مشرق وسطیٰ، افریقہ، لاطنیی امریکہ اور آسٹریلیا تک کے حقیقی باشندوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ ان کے قدرتی وسائل کو زبردستی لوٹ رہے ہو، ان کی شہزی آزادیاں تم نے سلب کر رکھی ہیں، ان کی جہالت، بیماری اور اقتصادی پسماندگی کے تم ذمہ دار ہو۔ جہاں کسی نے تمہاری ظالمانہ مرضی کے خلاف بات کی، تم نے بین الاقوامی غنڈہ فورس سے اس پر چڑھائی کر دی۔ انسانی دوستی اور قیامِ امن کے عالمی ٹھیکداروں! ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹمی بم گرا کر لمحوں میں لاکھوں انسانوں کو کس نے بھسم کیا؟ تم انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہتھیار فروخت کر کے اپنی تجوریاں بھرتے ہو اور ممالک کو لڑا کر اس تجارت کو فروغ دیتے ہو پھر بھی تم انسان دوست اور امن پسند کہلواتے نہیں تھکتے۔ اس کے برعکس اگر کوئی کمزور ملک اپنے دفاع میں خود کفیل ہونے لگتا ہے تو تمہارے نزدیک اس سے عالمی امن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ایٹمی پاکسان تمہاری آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے۔ یہاں دو مہینے کے لئے بھی تمہارے چہیتوں سے اقتدار چھن جائے تو تم جمہوریت کی دھائی دیتے ہو مگر پچاس سال سے زائد جہاں تمہارے ایجنٹ تمہارے مقاصد پورے کر رہے ہوں وہاں کبھی جمہوریت کی بات نہیں کرتبے۔ جو نظام پاکستان میں ضروری ہے وہ مڈل ایسٹ میں کیوں ضروری نہیں؟ جب آزادی ہر فرد اور قوم کا پیدائشی بنیادی حق ہے تو یہ مسلم محکوموں کو کیوں نہیں دیا جاتا؟ یہود و ہنود مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، ان کی بستیاں نذر آتش، ان کے نوجوانوں کو قتل کر رہے ہیں، ان کی بہو بیٹیوں کی سرعام عصمت دری کی جاتی ہے لیکن تم ظالم و مظلوم دونوں کو یکساں صبر و تحمل کی تلقین کرتے ہو۔ جب کشمیر بوسینا، چیچنیا، فلسطین، کوسوو، مقدونیہ کے باشندوں کے بنیادی حقوق کے بے ضرر اور فضول سی قرار داد کہیں پیش ہوتی ہے تم بڑی ڈھٹائی سے اسے ویٹو کر دیتے ہو۔ کیا یہ انسان نہیں؟ کیا ان کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا جرم نہیں؟ کیا ان کا خون بہانا، بستیاں جلانا اور عصمتیں پامال کرنا قانونی و اخلاقی ظلم و جرم نہیں؟ کیا مظلوموں کی آہیں تمہارے دل و دماغ پر دستک نہیں دیتیں؟ کیا ظلم و قہر کے یہ گھٹا ٹوپ اندھیرے تمہیں نظر نہیں آتے؟

تم جس اسلام کو بدنام کرتے ہو اس کے نام لیواؤں نے کسی کی زمین پر قبضہ کر رہا ہے؟ کیا ان مظلوموں نے کسی کی آزادی سلب کی ہوئی ہے؟ کیا یہ کسی کے وسائلِ رزق پر سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں؟ پھر انہی کو دہشت گرد، امن کے دشمن اور فسادی کہا جا رہا ہے۔ اے عالمی دہشت گردو! غلامی کو اسلام نے نہیں تم نے رواج دیا ہے۔ انسانوں کے بنیادی حقوق مسلمانوں نے کہیں بھی غضب نہیں کئے۔ بلکہ تمہی چھوٹی قوموں کے حقوق کے غاصب ہو۔ انسانی جانوں، عزتوں، حرمتوں کو مسلمان کہیں بھی پامال نہیں کر رہے تم یا تمہارے ٹوڈی کر رہے ہیں۔ لیبیا ہو یا سوڈان، عراق ہو یا ایران، پاکستان ہو یا افغانستان ہر غیرت مند مسلمان تمہاری آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔۔۔ سچ ہے۔

تیمور اور چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
سو بار ہوئی حضرتِ انسان کی قبا چاک

تم دنیا میں پسماندگی، بدامنی، قتل و غارت، سبل و نہب، ظلم و استبداد، غلامی و محکومی کے ذمہ دار ہو، تمہارے گماشتے اس نظام کے محافظ بنے بیٹھے ہیں اور تم اسلام کو غلامی و محکومی کا الزام دیتے ہو۔ تم مسلمانوں سے عشق رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے درپے ہو۔ اس لئے سلامتی کونسل سے مانیٹرنگ ٹیموں کے لئے قرار دادیں منظور کرواتے ہو تاکہ عرب شیوخ کی طرح یہاں کے غیرت مند مسلمان بھی ہاتھ پیر توڑ کر تن بہ تقدیر، ہنود و یہود کے آہنی ظالمانہ پنجوں میں پھنسنے کے لئے رضا کارانہ طور پر آمادہ ہو جائے۔ اسلام آزاد ہے۔۔۔ آزادوں کا دین ہے اور آزادی پسندوں کا پشت پناہ۔ بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ :

موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لئے
نے کوئی فغفور و خاقاں نے گدائے راہ

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2013-06-05


Your Comments