کیا ہندوؤں کی تقریبات میں شرکت کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:1788
السلام علیکم، میرا سوال یہ ہے کہ ہندو ہولی مناتے ہیں اور ان میں کچھ مسلمان بھی مناتے ہیں۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اور اگر کسی نے ساتھ منا لی ہے تو اب وہ کیا کرے؟

  • سائل: زاہد حسین تنواریمقام: کشمور، سندھ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 23 مئی 2012ء

زمرہ: اقلیتوں کے حقوق

جواب:

ہندؤں اور غیر مسلموں کا کوئی بھی تہوار ہو، مسلمانوں کو ہندؤں کے تہوار نہیں منانے چاہیں۔ جیسے مسلمان اپنے تہوار مناتے ہیں، مثلاً عیدین، میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، شب برات وغیرہ، اس طرح مسلمانوں کے لئے ہندؤں کے تہوار منانا جائز نہیں۔ البتہ اگر ہندو جب ہولی وغیرہ کا تہوار منائیں تو جائز حد تک ان کی تقریب میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں، مثلا وہ کوئی تقریب منعقد کرتے ہیں، مختلف تقاریر کرتے ہیں تو ایسے اجتماع اور جلسوں میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ اس میں مسلمان اپنا پیغام حق ان تک پہنچا سکتے ہیں، اسلام کی تعلیمات ان تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن جب وہ ہولی کھیلیں تو اس میں شریک ہونا جائز نہیں ہے۔ ممکنہ اور جائز حد تک شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ کسی مسلمان کے لئے ہولی کھیلنا جائز نہیں ہے، ان کی مذہبی رسومات ادا کرنا، بتوں کو ہاتھ لگانا، ان کا تبرک کھانا، ایک دوسرے پر رنگ پھینکنا یہ سب حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟