Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - کیا عشر ، زکوۃ یا صدقہ، خیرات لینے والا شخص یاحجام امامت کروا سکتے ہیں؟

کیا عشر ، زکوۃ یا صدقہ، خیرات لینے والا شخص یاحجام امامت کروا سکتے ہیں؟

موضوع: زکوۃ  |  امامت   |  شرائط امامت   |  عشر کے احکام   |  صدقات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد نواز شریف       مقام: الہ آباد، ٹھینگ موڑ، ضلع قصور

سوال نمبر 1747:
کیا عشر ، زکوۃ یا صدقہ، خیرات لینے والا شخص اور حجام امامت کروا سکتے ہیں؟ ان میں کوئی بھی شخص مستقل طور پر کسی مسجد کا امام ہو تو اس میں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں؟ دیہات میں یہ تاثر عام ہے کہ عشر، زکوہ یا صدقہ خیرات لینے والا شخص امامت نہیں‌ کرو اسکتا۔ ایک مسجد میں‌ تو نمازیوں نے محض اس وجہ سے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی انکار کر دیا کہ عشر، زکوۃ اور صدقہ خیرات لینے والا شخص امام تھا، اس دن مسجد کے مستقل امام صاحب کسی وجہ سے امامت کے لیے نہیں‌ پہنچ سکے اور نمازیوں‌ نے عارضی طور پر محض ایک نماز کے لیے بھی عشر، زکوہ لینے والے شخص کی امامت کو قبول نہیں کیا۔ حالانکہ یہی شخص اسی مسجد کے موذن بھی ہیں۔ اس پر شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

اگر وہ شخص واقعی عشر، زکوٰۃ یا صدقہ خیرات لینے کا حقدار ہے تو کوئی حرج نہیں، لے سکتا ہے اور امامت بھی کروا سکتا ہے، اس میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔  امامت کے لیے سنی صحیح العقیدہ اور بنیادی دینی مسائل کا جاننے والا ہونا ضروری ہے، نہ کہ دولت مند، اَن پڑھ جاہل ہونا۔

باقی رہا حجام تو اس میں بھی کوئی شرعی ممانعت نہیں جو امامت کے مانع ہو۔ جو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، یہ ان کی جہالت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2012-04-27


Your Comments