Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا اللہ تعالیٰ کی صفات کسی مخلوق میں پائی جا سکتی ہیں؟

کیا اللہ تعالیٰ کی صفات کسی مخلوق میں پائی جا سکتی ہیں؟

موضوع: ایمانیات

سوال نمبر 16:
کیا اللہ تعالیٰ کی صفات کسی مخلوق میں پائی جا سکتی ہیں؟

جواب:

جی ہاں ! اللہ تعالیٰ کی کچھ صفات جو صفات عامہ کہلاتی ہیں مخلوق میں پائی جاتی ہیں، جب ان کا ذکر اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گا تو وہ حقیقی معنی میں استعمال ہوں گی اور شان خالقیت و الوہیت کے مطابق ہوں گی اور جب مخلوق کے لئے ہو گا تو ان کا استعمال مجازی اور عطائی معنی میں ہو گا کیونکہ مخلوق میں جو صفات پائی جاتی ہیں وہ اللہ کی صفات سے اصلاً مشابہ نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہوتی ہیں۔ یہ صفات مخلوق کو اس لیے عطا کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ صفات کو جہاں تک ممکن ہو معلوم کرنے میں مدد مل سکے گویا یہ صفات الٰہیہ کی معرفت کا ذریعہ اور واسطہ بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں وہ اس طرح کی ہیں :

صفاتِ حقیقی بمعنی صفات ذاتی صفات مجازی بمعنی صفات عطائی

1. اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُO

الإسراء، 17 : 1

’’بیشک وہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًاO

الدهر، 76 : 2

’’پھر ہم اس کو سننے والا اور دیکھنے والا (انسان) بنا دیتے ہیں۔‘‘

2. إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌO

البقرة، 2 : 143

’’بیشک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔‘‘

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌO

التوبة، 9 : 128

’’بیشک تمہارے پاس تم میں سے (ایک باعظمت) رسول تشریف لائے، تمہارا تکلیف و مشقت میں پڑنا ان پر سخت گراں (گزرتا) ہے۔ (اے لوگو!) وہ تمہارے لیے (بھلائی اور ہدایت کے) بڑے طالب و آرزو مند رہتے ہیں (اور) مومنوں کے لئے نہایت (ہی) شفیق، بے حد رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘

3. إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌO

الحج، 22 : 17

’’بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے۔‘‘

3. وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا.

البقرة، 2 : 143

’’اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول تم پر گواہ ہو۔‘‘

4. کَلَّمَ اﷲُ مُوْسٰی تکْلِيْمًاO

النساء، 4 : 164

’’اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے (بلاواسطہ) گفتگو (بھی) فرمائی۔‘‘

4۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ سے کلام کیا۔

 

5. أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًاO

النساء، 4 : 139

’’کیا یہ ان (کافروں) کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس عزت تو ساری اللہ کے لئے ہے۔‘‘

5. وَِﷲِ الْعِزَّة وَ لِرَسُوْلِه وَ لِلْمُوْمِنِيْنَ... O

المنافقون، 63 : 8

’’عزت اللہ کیلئے، اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے ہے۔‘‘

6. أَنَّ الْقُوَّةَ لِلّهِ جَمِيعاً.

البقرة، 2 : 165

’’ساری قوتوں کا مالک اللہ ہے۔‘‘

6۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے استفسار پر آپ کے درباریوں نے یہ جواب دیا :

نَحْنُ أُوْلُوا قُوَّةٍ وَأُولُوا بَأْسٍ شَدِيدٍ.

النمل، 27 : 33

’’ہم طاقتور اور سخت جنگجو ہیں۔‘‘

7. بِيَدِكَ الْخَيْرُ.

آل عمران، 3 : 26

’’ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے۔‘‘

8. أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ.

الاعراف، 7 : 54

’’خبردار ہر چیز کی تخلیق اور حکم و تدبیر کا نظام چلانا اسی کا کام ہے۔‘‘

7. وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا.

البقرة، 2 : 269

’’جسے (حکمت و) دانائی عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی نصیب ہو گئی۔

8۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے :

أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ... O

آل عمران، 3 : 49

’’میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments