Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حمل ضائع کروایا جا سکتا ہے؟

کیا حمل ضائع کروایا جا سکتا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  اسقاط حمل/عزل

سوال پوچھنے والے کا نام: اظہر محمود       مقام: راولپنڈی، پنجاب

سوال نمبر 1523:
میرا چھ ماہ کا بیٹا ہے اور پہلے بھی میرے تین بچے ہیں، میری بیوی بہت بیمار ہے، اور گھر کے حالات بھی اچھے نہیں۔ اب دوبارہ بھی میری بیوی ایک ماہ اور کچھ دنوں سے حاملہ ہے، ان مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا میں یہ حمل ضائع کروا سکتا ہوں

جواب:

چار ماہ سے پہلے پہلے حمل ضائع کروایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے پہلے آپ ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں، کیونکہ حمل ضائع کروانے سے بیوی کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے، اس کے برے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں، اگر تو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو تو چار ماہ سے پہلے پہلے حمل ضائع کروایا جا سکتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ روزی کے ڈر سے یا بھوک وافلاس کے خوف سے ایسا نہیں کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے، بھوک وافلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ہر انسان کا رزق مقرر ہے، جو بھی اس دنیا میں آتا ہے، وہ اپنا رزق لے کر آتا ہے، لہذا آپ اپنے بچوں کی بھوک وافلاس سے خوفزدہ نہ ہوں۔

إِنَّ اللّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

(آل عِمْرَان ، 3 : 37)

بیشک اﷲ جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق عطا کرتا ہےo

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-03-14


Your Comments