کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اور سنت مطہرہ میں بیعت و ارادت کی کوئی مثال ملتی ہے؟

سوال نمبر:143
کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ اور سنت مطہرہ میں بیعت و ارادت کی کوئی مثال ملتی ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 21 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  روحانیات  |  روحانیات  |  روحانیات

جواب:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ بیعت کا موجودہ طریقہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ماخوذ ہے۔ یہ عمل بدعت اور کوئی خلاف شرع بات نہیں ہے بلکہ سراسر سنت کے مطابق ہے تمام صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی۔ اس دور میں بیعت کی کئی اقسام تھیں۔ قبول اسلام کی بیعت، خلافت کی بیعت، اقامت ارکان دین کی بیعت، سنت و تقویٰ اختیار کرنے کی بیعت، ہجرت، جہاد، اطاعت وغیرہ مختلف بیعتیں رواج پذیر تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہ صرف ذکر فرمایا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارکہ پر کی گئی بیعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بیعت قرار دیا۔

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ.

’’(اے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بلا شبہ جو لوگ آپ سے (آپ کے ہاتھ پر) بیعت کرتے ہیں فی الحقیقت وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں (گویا) اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔‘‘

 الفتح، 48 : 10

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟