Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - کیا میری کرسمس کہنا کفر ہے؟

کیا میری کرسمس کہنا کفر ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  سالگرہ

سوال پوچھنے والے کا نام: محسن ندیم       مقام: الریاض۔ سعودیہ عریبہ

سوال نمبر 1324:
کیا میری کرسمس کہنا کفر ہے؟

جواب:

میری کرسمس کہنا جائز ہے، یہ کفر نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت پر کہا جاتا ہے۔ عیسی علیہ السلام کی ولادت قرآن و حدیث سے ثابت ہے، اس میں کوئی شک و شبہ کی بات نہیں۔ اور ان کی ولادت بھی غیر معمولی طریقے سے ہوئی ہے۔ لہذا عیسیٰ علیہ السلام کا میلاد منانا جائز ہے۔ میری کرسمس کہنا کفر نہیں ہے، اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جس کی بنا پر اسے کفر کہا جائے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت قرآن سے ثابت ہے۔ ہم ولیوں کی ولادت کو مانتے ہیں تو وہ تو ایک نبی ہیں، ان کی ولادت کا ماننا بدرجہ اولی جائز ہے۔ البتہ میری ایسٹر کہنا حرام ہے۔ کیونکہ عیسائیوں کا جو عقیدہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے ہے کہ آپ کو صلیب پر چڑھا دیا گیا ہے، یہ غلط ہے اور باطل عقیدہ ہے۔ دین اسلام اس عقیدے کی تردید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے، اور وہ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔ میری ایسٹر کہنا حرام ہے، کیونکہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، اور ان کی وفات کا دن کیسے منایا جا سکتا ہے؟ لہذا ان کے وصال کا دن منانا جائز نہیں، یہ حرام ہے۔

 قرآن مجید میں واضح طور پر فرمان باری تعالیٰ موجود ہے۔

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًاo وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًاo بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًاo وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًاo

اور (مزید یہ کہ) ان کے (اس) کفر اور قول کے باعث جو انہوں نے مریم (علیہا السلام) پر زبردست بہتان لگایاo اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیاo بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہےo اور (قربِ قیامت نزولِ مسیح علیہ السلام کے وقت) اہلِ کتاب میں سے کوئی (فرد یا فرقہ) نہ رہے گا مگر وہ عیسٰی (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے ضرور (صحيح طریقے سے) ایمان لے آئے گا، اور قیامت کے دن عیسٰی (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گےo

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کرسمس کا اہتمام اور اس میں شرکت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-01-02


Your Comments