اگر سجدہ سہو کرنا درود شریف پڑھنے کے بعد یاد آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:1124
اگر سجدہ سہو کرنا درود شریف پڑھنے کے بعد یاد آئے تو کیا اس وقت سجدہ سہو کر لینا چاہیے یا دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے؟

  • سائل: محمد اکرممقام: تلہ گنگ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 13 جولائی 2011ء

زمرہ: عبادات  |  نماز

جواب:

اگر سجدہ سہو درود شریف پڑھنے کے بعد یا سلام پھیرنے کے بعد یاد آیا تو اس وقت بھی سجدہ سہو کیا جا سکتا ہے اور کرنا ضروری ہے تاکہ نماز مکمل ہو جائے۔ البتہ اگر سلام پھیرنے کے بعد کوئی ایسا عمل کیا ہو جو مفسد نماز ہو تو پھر سجدہ سہو ساقط ہو گیا۔ یعنی جب تک نماز میں ہے سجدہ سہو کر سکتاہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

اذا نسی قراءة التشهد حتی سلم ثم تذکر عاد و تشهد و عليه السهو.

(فتاویٰ عالمگيری، جلد 1، صفحه 127)

اگر کوئی تشہد بھول گیا اور سلام پھیر دیا، پھر جلدی یاد آ گیا تو تشہد پڑھے، پھر سجدہ سہو کرے اور سلام پھیرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟