Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اپنے مقدر کو کوسنے والے الفاظ کفریہ ہوتے ہیں؟

کیا اپنے مقدر کو کوسنے والے الفاظ کفریہ ہوتے ہیں؟

موضوع: معاملات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عابد       مقام: سیالکوٹ، پاکستان

سوال نمبر 1051:
میں اس سے پہلے سوال نمبر دس سو چالیس 1040 کر چکا ہوں اسی حوالے سے میں نے یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ کلمات کفر میں آتے ہیں اور کیا اس سے مسلمان اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اسکا نکاح ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ حضرت الیاس عطار قادری رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اسطرح کے الفاظ کفریہ کلمات کہلاتے ہیں اور اس سے نکاح اور بیعت دونوں ٹوٹ جاتے ہیں۔ مسلمان کو توبہ کے بعد از سر نو اسلام قبول کر کے تجدید نکاح اور تجدید بیعت کرنی چاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے اور اگر کسی شخص نے ایسے الفاظ کہے ہوں اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح نہ کیا ہو اور اس دوران اسکی بیوی حاملہ ہو جائے تو کیا ایسی اولاد ناجائز ہو گی۔ یا شرعی طور پر اسکی یہ اولاد جائز ہوگی۔ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیجئے گا۔

جواب:
یہ ایسے کلمات نہیں ہیں جس سے انسان کافر ہوجاتا ہے اور نہ ہی اس سے انسان کا نکاح ٹوٹتا ہے اور نہ ہی بیت پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ لوگوں میں‌ اکثریت ایسی ہیں جو غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے ایسے کلمات کہتی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے اللہ تبارک و تعالیٰ رحم فرمائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-06-21


Your Comments