Fatwa Online

کیا مسجد یا مدرسہ کی تعمیر پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:5742

کیا مناسب تملیک کرنے کے بعد زکوٰۃ کی رقم سے درج ذیل کام کیے جا سکتے ہیں: (1) مسجد یا مدرسے کی زمین خریدنا؟ (2) مسجد یا مدرسے کی تعمیر کا سامان خریدنا؟

سوال پوچھنے والے کا نام: وقاص ارشد

  • مقام: راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 13 جولائی 2020ء

موضوع:زکوۃ

جواب:

قرآنِ مجید میں مذکور مصارفِ زکوٰۃ میں ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ایک نہایت وسیع اور جامع مصرف ہے۔ اس بنا پر مسجد اور مدرسہ کے دینی واصلاحی مصالح میں زکوٰۃ کی رقم صرف کرنے کی گنجائش پائی جاتی ہے، کیونکہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ میں ایسی کوئی صریح ممانعت وارد نہیں ہوئی جو زکوٰۃ یا عشر کی رقم کو مسجد و مدرسہ کے لیے خرچ کرنے سے روکتی ہو۔ لہٰذا زکوٰۃ کی رقم سے مسجد یا مدرسہ کے لیے زمین خریدنا، ان کی تعمیر کے لیے ضروری سامان مہیا کرنا، اور ان کے قیام و تکمیل سے متعلق دیگر ضروری اخراجات پورے کرنا جائز ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo

’’بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

1. التوبة، 9: 60

ارشادِ باری تعالیٰ میں مصارفِ زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین کا صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ہے۔ ان میں ساتواں مصرف ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ہے، جس کے مفہوم، حدود اور تطبیقات کے بارے میں فقہاء و مفسرین کے درمیان تفصیلی بحث پائی جاتی ہے۔ اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے مفہوم کو مخصوص مصادیق، خصوصاً جہاد اور اس سے متعلقہ ضروریات تک محدود قرار دیا ہے، تاہم متعدد ائمۂ تفسیر نے اس تعبیر کو اس کے لغوی عموم کے اعتبار سے وسیع مفہوم پر محمول کیا ہے، جس کے تحت دین کی سربلندی، مصالحِ عامہ اور مختلف وجوہِ خیر میں زکوٰۃ کے صرف ہونے کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔ اسی بنا پر ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کے مفہوم کی تعیین، زکوٰۃ کے اجتماعی اور رفاہی مصارف کے باب میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ اس مصرف کے عموم کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

أنَّ ظَاهِرَ اللَّفْظِ في قَوْلِهِ: ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ لَا يُوجِبُ القَصْرَ عَلى كُلِّ الغُزَاةِ، فَلِهَذا المَعْنَى نَقَلَ القَفّالُ في تَفْسِيرِهِ عَنْ بَعْضِ الفُقَهاءِ: أنَّهم أجازُوا صَرْفَ الصَّدَقاتِ إلى جَمِيعِ وُجُوهِ الخَيْرِ؛ مِن تَكْفِينِ المَوْتى، وَبِناءِ الحُصُونِ، وَعِمارَةِ المَساجِدِ؛ لِأنَّ قَوْلَهُ: ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ عَامٌّ في الكُلِّ.

’’ارشادِ باری تعالیٰ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کے ظاہری الفاظ غازیوں تک محدود کرنے کا موجب نہیں، اسی وجہ سے شیخ قفال نے بعض فقہاء سے نقل کیا کہ وہ تمام اُمور خیر میں صدقات خرچ کرنے کی اجازت دیتے، مثلاً میت کا کفن، قلعوں اور مساجد کی تعمیر کیونکہ ارشادِ ربانی ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ ان تمام کو شامل ہے۔‘‘

2. رازي، التفسير الكبير، 16: 90، بيروت: دار الكتب العلمية

صاحبِ تفسیر المنار، علامہ محمد رشید بن علی رضا قلمونی رحمہ اللہ، مصرفِ زکوٰۃ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کی تفسیر و توضیح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

وَالتَّحْقِيقُ: أَنَّ سَبِيلَ اللهِ هُنَا مَصَالِحُ الْمُسْلِمِينَ الْعَامَّةُ الَّتِي بِهَا قِوَامُ أَمْرِ الدِّينِ وَالدَّوْلَةِ دُونَ الْأَفْرَادِ... وَمِنْ أَهَمِّ مَا يُنْفَقُ فِي سَبِيلِ اللهِ فِي زَمَانِنَا هَذَا إِعْدَادُ الدُّعَاةِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَإِرْسَالُهُمْ إِلَى بِلَادِ الْكُفَّارِ مِنْ قِبَلِ جَمْعِيَّاتٍ مُنَظَّمَةٍ تَمُدُّهُمْ بِالْمَالِ الْكَافِي كَمَا يَفْعَلُهُ الْكُفَّارُ فِي نَشْرِ دِينِهِمْ... وَيَدْخُلُ فِيهِ النَّفَقَةُ عَلَى الْمَدَارِسِ لِلْعُلُومِ الشَّرْعِيَّةِ وَغَيْرِهِمْ مِمَّا تَقُومُ بِهِ الْمَصْلَحَةُ الْعَامَّةُ.

’’تحقیق یہ ہے کہ سبیل اللہ سے مراد وہ مصالح اور مفید کام ہیں جن سے مخصوص افراد نہیں بلکہ عام مسلمانوں کو فائدہ پہنچے جن سے دین اور دولت دونوں کو تقویت حاصل ہو۔ ہمارے زمانہ میں سب سے اہم کام جس میں اس مد کا روپیہ خرچ کیا جائے وہ مبلغین اسلام کو تیار کرنا ہے اور انہیں منظّم انجمنوں کی نگرانی میں کفّار کے ممالک میں تبلیغ دین کے لیے بھیجنا ہے اور ان کی مالی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ اس میں مدارسِ اسلامیہ داخل ہیں جن میں علم دینیہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ وہ کام جن میں مصلحت عامہ ہے۔‘‘

3. قلموني، تفسير القرآن الحكيم (تفسير المنار)، 10: 435- 436، الهيئة المصرية العامة للكتاب

ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم میں مذکور ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ کا مفہوم نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہے، جسے صرف عسکری جہاد، مجاہدین کی اعانت یا حجاجِ کرام کی معاونت تک محدود کرنا درست نہیں ہے بلکہ ہر وہ دینی، دعوتی، تعلیمی اور اصلاحی خدمت جو دینِ اسلام کی سربلندی، اشاعتِ حق، اقامتِ شعائرِ اسلام اور مصالحِ عامہ مسلمین کے لیے انجام دی جائے، وہ عرفِ شرع میں فی سبیل اللہ کے مفہوم میں داخل ہے۔ لہٰذا عصرِ حاضر میں دین کی ترویج و اشاعت، دعوت و تبلیغ، دینی و تعلیمی اداروں، مساجد اور مدارس کی تعمیر، توسیع اور ضروری انتظامات، تعلیم و تدریس، دینی و عصری علوم کی نشر و اشاعت، مفید کتب کی طباعت و ترسیل، نیز اصلاحِ معاشرہ اور اقامتِ دین کے لیے انجام دی جانے والی تمام جائز اور شرعاً معتبر دینی خدمات پر، حسبِ ضرورت، زکوٰۃ کی رقم صرف کرنا فی سبیل اللہ کے مصرف کے تحت جائز ہے۔

مسئلہ تملیک

تملیک سے مراد کسی شخص یا جہت کو کسی مال کا شرعی مالک بنانا ہے، یعنی مالِ زکوٰۃ اس انداز سے مستحق کے حوالے کیا جائے کہ وہ اس کا مالک قرار پائے اور اس میں تصرف کا مکمل حق حاصل کر لے۔ اس صورت میں ایک جانب صاحبِ نصاب کی طرف سے ادائیگی اور دوسری جانب مستحق کی طرف سے استحقاق وملکیت دونوں ثابت ہوجاتے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ نصوصِ شرعیہ سے صراحتاً ثابت نہیں، بلکہ فقہاء کے اجتہاد اور استنباط سے متعلق ایک تعبیری وفقہی مسئلہ ہے۔ اسی بنا پر ادائیگیِ زکوٰۃ کی صحت کے لیے تملیک کو شرط قرار دینے یا نہ دینے کے بارے میں فقہائے امت کے مابین اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ فقہاء کے ایک طبقہ کے نزدیک تملیکِ شخصی ادائیگیِ زکوٰۃ کی صحت کے لیے بنیادی شرط اور رکن کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک جب تک مالِ زکوٰۃ قرآنِ کریم میں مذکور مصارفِ زکوٰۃ، مثلاً فقراء، مساکین، غرباء، یتامیٰ اور دیگر مستحقین کی انفرادی ملکیت میں منتقل نہ کر دیا جائے اور انہیں اس میں کامل حقِ تصرف حاصل نہ ہو، اس وقت تک زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اور نہ ہی صاحبِ مال فرضِ زکوٰۃ سے سبک دوش قرار پاتا ہے۔ اسی فقہی تصور کے پیشِ نظر عام طور پر لوگ اپنی زکوٰۃ اپنے مستحق رشتہ داروں، غریب خاندانوں اور انفرادی مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک قومی، اجتماعی یا رفاہی منصوبوں پر زکوٰۃ صرف کرنا شرعاً محلِ نظر ہے۔

اسی اصولِ تملیک کی بنیاد پر متعدد فقہاء نے تصریح کی ہے کہ مساجد، خانقاہوں، سراؤں، سبیلوں، حوضوں، پلوں کی تعمیر ومرمت، نیز اموات کی تکفین و تدفین جیسے ایسے عمومی رفاہی امور، جن میں کسی مستحق فرد کو مال کا مالک نہیں بنایا جاتا، ان پر مالِ زکوٰۃ صرف کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ان تمام صورتوں میں شرطِ تملیک مفقود ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے مالِ زکوٰۃ سے کھانا خرید کر فقراء کو صبح و شام کھلا دیا، لیکن وہ کھانا ان کی ملکیت میں نہیں دیا، تو ان فقہاء کے نزدیک زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، کیونکہ یہاں بھی تملیک متحقق نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر کسی صاحبِ نصاب نے کسی زندہ فقیر کی اجازت کے بغیر مالِ زکوٰۃ سے اس کا قرض ادا کر دیا، یا مالِ زکوٰۃ سے غلام خرید کر اسے آزاد کر دیا، تو ان صورتوں میں بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ اس لیے کہ ان تمام مثالوں میں مستحق کو مال کا مالک نہیں بنایا گیا۔

اس کے برعکس فقہاء کے دوسرے طبقہ کا موقف یہ ہے کہ ادائیگیِ زکوٰۃ کے لیے تملیکِ شخصی کو شرط قرار دینا شرعاً لازم نہیں ہے۔ ان کے نزدیک آیتِ مصارفِ زکوٰۃ سے انفرادی تملیک کا مفہوم نہ تو دلالتِ اقتضاء کے ذریعے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے الفاظ اس پر صراحت کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک اجتہادی تعبیر ہے۔ مزید برآں قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں ایسی کوئی صریح دلیل موجود نہیں جو تملیک کو زکوٰۃ کی صحت کی لازمی شرط قرار دے۔ اسی طرح آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی اس مفہوم کی واضح تائید منقول نہیں، بلکہ فقہاء کی بیان کردہ زکوٰۃ کی شرعی تعریف بھی بذاتِ خود تملیک کے اس مخصوص تصور کو لازم قرار نہیں دیتی۔ لہٰذا ان حضرات کے نزدیک اگر مالِ زکوٰۃ کو ایسے اجتماعی، رفاہی اور دینی مصالح میں صرف کیا جائے جو قرآنِ کریم کے مصرف ﴿فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ یا دیگر شرعی مصارف کے تحت داخل ہوں، تو محض عدمِ تملیک کی بنا پر اس کے عدمِ جواز کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

وجہ اختلاف

ادائیگیِ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے تملیک کے شرط ہونے یا نہ ہونے کے مسئلہ میں فقہائے امت کے مابین جو اختلاف پایا جاتا ہے، اس کا بنیادی سبب آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں وارد حرفِ جر ’’لِ‘‘ کے مفہوم اور دلالت میں اختلاف ہے۔ کیونکہ اس مقام پر حرفِ لام متعدد معانی کا احتمال رکھتا ہے، اس لیے بعض فقہاء نے اس لام کو لامِ تملیک قرار دے کر استحقاقِ زکوٰۃ کے لیے مستحق کو مال کا مالک بنانا ضروری قرار دیا ہے، جبکہ دیگر فقہاء نے اسے صرف لامِ اختصاص، استحقاق یا تعلیل کے معنی میں محمول کیا ہے، جس کی بنا پر ان کے نزدیک تملیک ادائیگیِ زکوٰۃ کے لیے شرط نہیں ہے۔ چنانچہ اس اختلاف کی اصل بنیاد حرفِ جر ’’لِ‘‘ کے مختلف معانی کا احتمال اور اس کی دلالت کے تعین میں فقہاء کے اجتہادی اختلاف پر قائم ہے۔ آیتِ مصارف ملاحظہ ہو:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo

بے شک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کیے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لیے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرضداروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔

التوبة، 9: 60

مندرجہ بالا آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں وارد لفظ ﴿لِلْفُقَرَاءِ﴾ کے حرف لام کی مقصدیت، دلالت اور معنوی تعیین فقہائے کرام، مفسرینِ عظام اور اہلِ اصول کے مابین ایک اہم علمی و فقہی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اسی حرفِ لام کے مختلف احتمالی معانی اور اس کی دلالت کے تعین میں اختلاف کے نتیجے میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک کے شرط ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے میں فقہاء کے مابین اختلافِ رائے پیدا ہوا۔ چنانچہ ہر مکتبِ فکر نے اپنے اصولِ استدلال، لغوی قواعد اور سیاقِ آیت کی روشنی میں حرفِ لام کی مختلف تعبیرات پیش کیں اور ان پر قرآن، سنت، لغتِ عرب اور اقوالِ ائمہ سے استدلال کیا۔ اس بنا پر اس حرف کی حقیقت اور اس کے مرادی معنی کی تعیین مسئلۂ تملیک کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عربی زبان میں حرف لام متعدد معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا صحیح مفہوم سیاق و سباق، مقامِ کلام اور قرائنِ لفظیہ و معنویہ کی روشنی میں متعین کیا جاتا ہے۔ ذیل میں حرف لام کے اہم لغوی و نحوی معانی ذکر کیے جاتے ہیں:

  1. لام برائے اَجل (کے لیے)
  2. لام برائے اِختصاص (خاص کرنا)
  3. لام برائے اِستحقاق (مقدار ہونا)
  4. لام برائے تملیک (مالک بنانا)
  5. لام برائے اِنتقاع (فائدہ پہنچانا)
  6. لام برائے تقدیر مفروضہ (تکمیلِ اَمر)

عام طور پر حرفِ جر ’لِ‘ کا ترجمہ ’کے لیے‘ کیا جاتا ہے، لیکن آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں یہی لفظ فقہاء، مفسرین اور اصولیین کے مابین اختلافِ رائے کا بنیادی سبب بن گیا ہے۔ اصل نزاع اس امر میں ہے کہ یہاں ’کے لیے‘ سے کیا مراد ہے اور حرفِ ’لِ‘ کس معنی پر محمول کیا جائے۔ چنانچہ جن فقہاءِ کرام کے نزدیک ادائیگیِ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے تملیک شرط ہے، وہ آیتِ کریمہ میں وارد ’لِ‘ کو لامِ تملیک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زکوٰۃ کی ادائیگی اسی وقت شرعاً معتبر ہوگی جب مستحق کو مالِ زکوٰۃ کا مالک بنا دیا جائے۔ اس کے برعکس جن فقہاء، مفسرین اور اہلِ اصول کے نزدیک تملیک شرط نہیں، وہ اس مقام پر ’لِ‘ کو لامِ تملیک کے بجائے لامِ اختصاص، لامِ استحقاق، لامِ تخصیص یا لامِ انتفاع کے معانی پر محمول کرتے ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک آیتِ مصارف کا مقصود یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال مذکورہ مصارف کے لیے مخصوص اور مستحقین کے نفع و مصلحت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، نہ یہ کہ ہر صورت میں انفرادی تملیک ہی اس کی صحت کے لیے لازم قرار دی جائے۔ مزید برآں، جن علماء، فقہاء اور مفسرین نے اس مسئلے میں نسبتاً محتاط اور سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ’لِ‘ کو خصوصاً لامِ تملیک قرار دیا ہے، ان کے ہاں بھی آیتِ مصارف میں مذکور تمام آٹھ مصارف میں انفرادی تملیک کا تصور یکساں طور پر موجود نہیں ہے۔ بلکہ عملی اور فقہی اعتبار سے صرف پہلی چار مدات، یعنی الفقراء، والمساکین، والعاملین علیها، والمؤلفة قلوبهم میں ہی براہِ راست شخصی و انفرادی تملیک پائی جاتی ہے، جبکہ باقی چار مصارف میں انفرادی تملیک کی شرط نہ نصوص سے صراحتاً ثابت ہے اور نہ ہی اس پر فقہاء کا اتفاق پایا جاتا ہے، بلکہ وہاں مصرف، مصلحت اور جہتِ استحقاق کے دیگر اعتبارات ملحوظ رکھے جاتے ہیں۔

  1. فقراء
  2. مساکین
  3. عاملینِ زکوٰۃ کا اِنتظامی اور مالی اِدارہ
  4. مؤلفۃ القلوب

جبکہ درج ذیل چار مدات اِجتماعی مقاصد مصالح کے لیے قرار دی جاتی ہیں:

  1. الرقاب (غلاموں کی آزادی)
  2. الغارمون (مقروض)
  3. فی سبیل اللہ
  4. ابن السبیل

بعض فقہاء و مفسرین کے نزدیک آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں وارد پہلی لام ﴿لِلْفُقَرَاءِ﴾ اصلًا لامِ تملیک ہے ہی نہیں ہے، اس بنا پر ان حضرات کے نزدیک ادائیگیِ زکوٰۃ کے صحیح ہونے کے لیے تملیک شرط بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اگر زکوٰۃ کی رقم قرآنِ مجید میں مذکور آٹھ مصارف میں سے کسی بھی مصرف پر، خواہ براہِ راست کسی مستحق فرد کو دی جائے یا اجتماعی و رفاہی مصالح میں صرف کی جائے، تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، اگرچہ کسی مخصوص فرد کو اس مال کا مالک نہ بھی بنایا جائے۔ اس نظریے کے مطابق تملیک، صحتِ اداءِ زکوٰۃ کی لازمی شرط نہیں ہے، بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ مالِ زکوٰۃ ان مصارف میں خرچ ہو جنہیں شارع نے مشروع قرار دیا ہے۔

راجع قول

مختلف فقہائے کرام کے اجمالی مؤقف سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ادائیگیِ زکوٰۃ میں تملیک بذاتِ خود کوئی مستقل اور ذاتی شرط نہیں ہے، بلکہ اس باب میں شریعت نے وسعت اور گنجائش رکھی ہے۔ اسی بنا پر زکوٰۃ کی ادائیگی متعدد جائز صورتوں سے عمل میں آ سکتی ہے، جن میں انفرادی اور اجتماعی دونوں نوعیت کے طریقے شامل ہیں۔ لہٰذا یہ تصور کہ زکوٰۃ صرف افراد کو ذاتی طور پر مال کا مالک بنانے سے ہی ادا ہو سکتی ہے اور اسے کسی اجتماعی دینی، رفاہی یا عوامی مصلحت پر صرف نہیں کیا جا سکتا، فقہِ اسلامی کے کسی بھی معروف مذہب کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ نہ فقہائے احناف کا یہ متفقہ مؤقف ہے، نہ مالکیہ کا، نہ شوافع کا اور نہ ہی حنابلہ کا قول ہے۔ یعنی تمام فقہائے امت کا اس اصول پر اتفاق ہے کہ شریعتِ مطہرہ کے کسی مطلق حکم کو بلا دلیلِ شرعی مقید کرنا، کسی عام نص کو بلا برہان مخصوص کرنا، یا کتاب و سنت میں ایسی شرط کا اضافہ کرنا جس کی اصل شریعت میں موجود نہ ہو، جائز نہیں ہے۔ کیونکہ تشریع کا حق صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے، کسی مجتہد یا فقیہ کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ محض اپنے اجتہاد سے کسی مطلق حکم میں ایسی قید یا شرط داخل کر دے جس پر کوئی معتبر شرعی دلیل قائم نہ ہو۔ اسی اصول کی روشنی میں آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں مذکور ﴿لِلْفُقَرَاءِ﴾ کے لام کو خصوصاً لامِ تملیک قرار دینا اور اس سے ادائیگیِ زکوٰۃ کے لیے تملیکِ شخصی کو لازمی شرط ثابت کرنا، درحقیقت کتاب اللہ کے مطلق حکم کو بلا دلیل مقید کرنے کے مترادف ہے، حالانکہ قرآنِ مجید، سنتِ نبویہ، آثارِ صحابہ یا اصولِ شریعت میں ایسی کسی تقیید کی کوئی صریح اور قطعی دلیل موجود نہیں ہے۔

مزید برآں، آیتِ مصارفِ زکوٰۃ کے سیاق و سباق پر غور کیا جائے تو وہ بھی اسی مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ مقصود افراد کو لازماً مالک بنانا نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ کے اموال کو ان مصارف اور جہات میں صرف کرنا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے متعین فرمایا ہے۔ چنانچہ اصل اعتبار استحقاقِ مصرف کا ہے، نہ کہ ہر صورت میں تملیکِ شخصی کا ہے:

وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَo وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَo

اور ان ہی میں سے بعض ایسے ہیں جو صدقات (کی تقسیم) میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں، پھر اگر انہیں ان (صدقات) میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جائیں اور اگر انہیں اس میں سے کچھ نہ دیا جائے تو وہ فوراً خفا ہو جاتے ہیں۔ اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا)۔

التوبة، 9: 58، 59

زیرِ بحث آیت میں اُن منافقین کا تذکرہ ہے جو اپنے نفسانی مفادات اور ذاتی اغراض کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوء ظن رکھتے تھے۔ ان کی کیفیت یہ تھی کہ اگر صدقات میں سے ان کی خواہش کے مطابق انہیں کچھ عطا کر دیا جاتا تو خوش ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدح وثنا کرتے، لیکن اگر ان کی خواہش پوری نہ ہوتی تو فوراً زبانِ طعن دراز کرتے اور (معاذ اللہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جانب داری اور ناانصافی کا الزام لگانے لگتے۔

قرآنِ مجید نے ان کے نفاق، حرص، طمع اور دنیاداری کو نہایت صریح اور بلیغ انداز میں بے نقاب کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ زکوٰۃ وصدقات کا استحقاق خواہشاتِ نفس یا ذاتی مطالبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ شرعی استحقاق کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لیے ان منافقین کو متنبہ کیا گیا کہ وہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں، بلکہ اس کے حقیقی مستحق وہ طبقات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آیتِ مصارف میں متعین فرما دیا ہے، مثلاً فقراء، مساکین اور دیگر مذکورہ اصناف۔ اسی بنا پر آیتِ کریمہ کے سیاق وسباق پر غور کرنے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ یہاں ﴿لِلْفُقَرَاءِ﴾ میں وارد ہونے والا حرفِ لام تملیک کے معنی میں نہیں بلکہ اختصاص اور استحقاق کے بیان کے لیے استعمال ہوا ہے۔ آیت کا مقصود یہ نہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی واحد معتبر صورت کسی فرد کو مال کا مالک بنا دینا ہے، بلکہ اس کا اصل مقصد ان مصارف اور مستحق طبقات کی تعیین ہے جن پر مالِ زکوٰۃ صرف کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا آیت کے الفاظ میں کسی خاص طریقۂ ادائیگی یا تملیکِ شخصی کی صراحت موجود نہیں، بلکہ اس میں صرف مستحقینِ زکوٰۃ کی اصناف کو حصر اور اختصاص کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اسی نکتے کی تصریح علامہ احمد بن منیر الإسكندری رحمہ اللہ نے الانتصاف (حاشیہ الكشاف) میں کرتے ہوئے فرمائی ہے کہ آیتِ مصارف کا سیاق تملیک پر دلالت نہیں کرتا، بلکہ اس کا مقصود صرف ان طبقات کی تعیین ہے جو زکوٰۃ کے مستحق قرار دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ آیت کے سیاق سے تملیک کو شرط قرار دینا محلِّ نظر ہے، جبکہ اختصاصِ استحقاق کا مفہوم پوری طرح سیاقِ کلام سے ہم آہنگ اور مؤید ہے:

لَا يُسَاعِدُهُ السِّيَاقُ، فَإِنَّ الْآيَةَ مُصَدَّرَةٌ بِكَلِمَةِ الْحَصْرِ الدَّالَّةِ عَلَى أَنَّ غَيْرَهُمْ لَا يَسْتَحِقُّ فِيهَا نَصِيبًا، فَهٰذَا هُوَ الْغَرَضُ الَّذِي سُبِقَتْ لَهُ، فَلَا اقْتِضَاءَ فِيهَا لِمَا سِوَاهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

’’یہ مفہوم آیت کے سیاق وسباق سے مطابقت نہیں رکھتا؛ کیونکہ آیت کا آغاز اداةِ حصر سے ہوا ہے، جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ افراد کے علاوہ کوئی دوسرا ان مصارف میں کسی حصے کا مستحق نہیں ہے۔ لہٰذا آیت کا اصل مقصد اور مقصود یہی حصر واختصاص بیان کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے مفہوم یا حکم پر اس آیت سے استدلال کرنا درست نہیں؛ کیونکہ آیت میں اس کی کوئی دلالت یا اقتضا موجود نہیں ہے۔ واللہ أعلم بالصواب۔‘‘

ابن المنير، الانتصاف على الكشاف عن حقاءق غوامض التنزيل، 2: 282، بيروت: دار الكتاب العربي

خلاصہ کلام

دلائلِ قرآنیہ، نصوصِ شرعیہ اور ائمۂ مجتہدین و فقہائے امت کے اقوال سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ آیتِ مصارفِ زکوٰۃ میں وارد لام کو لامِ تملیک پر محمول کرنا محلِّ نظر ہے، بلکہ راجح یہی ہے کہ اس سے تملیک کا وجوب لازم نہیں آتا۔ عقلِ سلیم بھی اسی موقف کی تائید کرتی ہے؛ کیونکہ زکوٰۃ کی مشروعیت کا بنیادی مقصد محض مال کی فرداً فرداً ملکیت منتقل کرنا نہیں، بلکہ مال کی محبت کو دلوں سے کم کرنا، معاشرے میں حاجت مندوں کی اعانت، اجتماعی مصالح کا قیام اور فلاحِ عامہ کا فروغ ہے۔ یہ مقاصد کبھی انفرادی طور پر مستحقین کو زکوٰۃ کی ملکیت دے کر حاصل ہوتے ہیں اور کبھی اجتماعی منصوبوں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں پورے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر زکوٰۃ کا کوئی مستحق فرد میسر ہو تو اسے زکوٰۃ دینا بلا شبہ افضل اور موجبِ اجر ہے، لیکن اگر ایسی صورت میسر نہ ہو یا اجتماعی دینی و انسانی مصالح کا تقاضا ہو، تو زکوٰۃ کی رقم کو دعوت و تبلیغِ دین، دینی تعلیم، رفاہِ عامہ، فلاحِ انسانیت اور دیگر اجتماعی منصوبوں میں صرف کرنا بھی شرعاً درست اور مقاصدِ شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس لیے کہ اسلام صرف انفرادی عبادات کا دین نہیں، بلکہ اجتماعی اصلاح، انسانی بہبود اور اجتماعی ذمہ داریوں کی تکمیل کا بھی جامع نظامِ حیات ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 13 August, 2026 08:50:44 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5742/