Fatwa Online

کیا کسی دوسرے کی طرف سے رمی کی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:3731

کیا حاجی اپنی رمی کے علاوہ کسی دوسرے حاجی کی طرف سے بھی رمی کر سکتا ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:

  • تاریخ اشاعت: 15 ستمبر 2015ء

موضوع:حج  |  عمرہ کے احکام و مسائل  |  رمی

جواب:

منیٰ میں واقع تین جمرات (یعنی شیاطین) پر کنکریاں مارنے کو رَمِیْ کہتے ہیں۔ ان میں سے پہلے کا نام جمرۃ الاخریٰ یا جمرۃ العقبہ ہے۔ اسے عوام الناس بڑا شیطان کہتے ہیں۔ دوسرے کو جمرۃ الوسطیٰ (منجھلا شیطان) اور تیسرے کو جمرۃ الاولیٰ (چھوٹا شیطان) کہتے ہیں۔

ہر حاجی کے لئے اپنے ہاتھ سے رمی کرنا واجب ہے۔ البتہ ضعیف، کمزور یا بیمار یعنی ایسے لوگ جو کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکتے ہوں یا سواری میسر نہ ہو اور جمرات تک پیدل نہ جا سکتے ہوں یا جا تو سکتے ہوں مگر مرض کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو ایسے معذور حجاج اپنی جگہ کسی کو نائب مقرر کر سکتے ہیں۔ نائب کو چاہئے کہ پہلے وہ اپنی طرف سے رمی کرے یعنی سات کنکریاں مارے پھر دوسرے معذور حاجی کی طرف سے سات کنکریاں مارے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 15 December, 2019 08:16:18 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3731/