Fatwa Online

کیا غسل کی جگہ صرف وضو کر لینا کافی ہے؟

سوال نمبر:3402

میں روزانہ غسل کی بجائے صرف وضو کرنا چاہتا ہوں، کیا ایسا کیا جاسکتا ہے؟ اس کی نیت کیا ہوگی؟

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد افضل

  • مقام: فیصل آباد
  • تاریخ اشاعت: 23 دسمبر 2014ء

موضوع:طہارت   |  غسل

جواب:

اگر آپ پر غسل فرض نہ ہو تو پھر غسل کریں یا صرف وضو، یہ آپ کی مرضی ہے۔ تاہم اگر جسم جنبی یا ناپاک ہو جائے تو پھر غسل کرنا ضروری ہے۔

نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ غسل کے لیے نیت کے کوئی خاص الفاظ نہیں ہیں، بلکہ جب آپ پاکی حاصل کرنے کے ارادے سے اٹھتے ہیں تو وہی نیت ہوتی ہے۔ زبان سے الفاظ بولنے کی ضرورت نہیں۔

اگر کسی بیماری یا پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں وضو یا غسل لازم ہونے کی صورت میں تییم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے نیت شرط ہے۔ اس صورت میں زبان سے الفاظ ادا کرنے ہوں گے کہ میں پاکی حاصل کرنے کے لیے تییم کی نیت کرتا ہوں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 08 December, 2019 03:44:40 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3402/