Fatwa Online

اگر طلاق کا پیپر بیوی کو نہ پہنچے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

سوال نمبر:1873

میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں، انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو اسٹام پیپر پر تین مرتبہ طلاق لکھ کر دے دی تھی، مگر وہ یونین کونسل سے رجسٹرڈ نہیں ہوئی تھی۔ اور پہلی بیوی یہ کہتی ہے کہ مجھ تک کوئی طلاق نہیں پہنچی۔ مگر میرے سسرال والے اور میرا شوہر یہ کہتا ہے کہ ہم نے ان کو طلاق دے دی ہے۔ طلاق کا پیپر نومبر 2011 میں بنا جبکہ اس پر انہوں نے تاریخ مئی کی لکھوائی۔ کچھ خاندانی وجوہات کی وجہ سے تو کیا یہ طلاق ہو گئی ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: سیدہ شاہوار

  • تاریخ اشاعت: 26 جون 2012ء

موضوع:خلع کے احکام   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)   |  طلاق

جواب:

آپ کے سوال کے مطابق طلاق واقع ہو چکی ہے۔ طلاق کا پیپر بیوی کو پہنچے یا نہ پہنچے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ طلاق کے لیے پیپر بیوی تک پہنچنا ضروری نہیں ہوتا۔ خاوند نے جب بھی طلاق کا لفظ لکھ دیا یا زبانی کہہ دیا تو اسی وقت طلاق ہو جاتی ہے۔ چاہے بیوی کو ملے یا نہ ملے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 26 November, 2020 07:36:06 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1873/